لندن میراتھن: 42 سالہ رنر دوڑ کے اختتام پر دم توڑ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چھبیس میل پر مشتمل اِس دوڑ کا ذیادہ تر حصہ لندن کے دریا تھیمس کے گرد مشتمل ہے

34ویں لندن میراتھن میں حصہ لینے والے ایک 42 سالہ ایتھلیٹ جو دوڑ ختم کرتے ہی بے ہوش ہوگئے تھے، ہسپتال میں دم توڑ گئے ہیں۔

ریس کے منتظمین نے رنر کا نام ظاہر نہیں کیا اور کہا ہے کہ انھیں اس واقعے پر بے حد افسوس ہے اور وہ ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

اس سے قبل 2012 میں کلیِئر سکوائرز نامی ایک خاتون دل کا دورہ پڑنے سے دوڑ کے دوران انتقال کر گئی تھیں۔ اُن کی وفات کے بعد لوگوں نے دس لاکھ پاؤنڈ کا عطیہ دیا تھا۔

اتوار کو دس بجے شروع ہونے والی ریس میں تقریباً 12 سو رضا کاروں نے حصہ لیا جن کا تعلق سینٹ جان نامی طبی ادارے سے تھا۔ غیرمعمولی گرم موسم کے باعث رضا کاروں نے ریس میں حصہ لینے والے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ وافر مقدار میں پانی پیتے رہیں۔

ریس شروع ہونے سے قبل درجۂ حرات 11 ڈگری ریکاڈ کیا گیا لیکن ریس کے اختتام پر ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونے کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا اور درجہ حرارت 16 ڈگری تک چلا گیا۔

لندن میراتھن میں ہر سال دنیا بھر سے 36 ہزار کے لگ بھگ لوگ حصہ لیتے ہیں۔ 26 میل پر مشتمل اس دوڑ کا زیادہ تر حصہ لندن کے دریائے ٹیمز کے گرد مشتمل ہے۔ ریس سے حاصل ہونے والی تمام تر آمدن عطیے کے طور پر مستحق لوگوں کو دی جاتی ہے۔

اسی بارے میں