پاکستان کو کوچ کی ضرورت، درخواستیں طلب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تمام درخواستوں کی وصولی کے لیے آخری تاریخ پانچ مئی مقرر کی گئی ہے

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ کے لیے کرکٹ بورڈ نے درخواستیں طلب کرلی ہیں اور اس سلسلے میں ملک کے ایک انگریزی اور اردو اخبار میں اشتہار بھی دے دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس اشتہار میں ہیڈ کوچ، بیٹنگ کوچ، فیلڈنگ کوچ اور سپن بولنگ کنسلٹنٹ کے لیے درخواستیں مانگی گئی ہیں۔

ان کے علاوہ مرد اور خاتون فزیو تھراپسٹ مرد اور خاتون سٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ کے لیے بھی درخواستیں طلب کی گئی ہے۔

تمام درخواستوں کی وصولی کے لیے آخری تاریخ پانچ مئی مقرر کی گئی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بولنگ کوچ کے لیے درخواست نہیں دی ہے کیونکہ سابق چیرمین ذکا اشرف اپنے دور میں سابق تیز بولر محمد اکرم کو دو سال کے لیے بولنگ کوچ کا معاہدہ تھما گئے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیرمین نجم سیٹھی یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ اگر محمد اکرم کا معاہدہ ختم کیا گیا تو اس صورت میں بورڈ کو معاہدے کی رو سے انھیں کافی ادائیگی کرنی پڑے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان معین خان کو ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے کوچ مقرر کیا تھا اور شعیب محمد فیلڈنگ کوچ بنائے گئے تھے۔

ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم فائنل میں پہنچی تھی لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتےہوئے پہلی بار سیمی فائنل تک بھی نہ پہنچ سکی تھی۔ ٹیم کی وطن واپسی پر محمد حفیظ نے قیادت چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد پاکستانی کرکٹ کے منظر نامے میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مقرر کردہ چیف سلیکٹر راشد لطیف یہ عہدہ سنبھالنے سے انکار کر چکے ہیں۔

اس دوران پاکستان کرکٹ بورڈ اور وقاریونس کے درمیان رابطے کی بھی اطلاعات ہیں جو کوچ کے عہدے کے لیے معین خان کے ساتھ مضبوط امیدوار ہیں۔

وقاریونس نے اس سے قبل بھی کوچ کے عہدے کے لیے درخواست دی تھی لیکن ذکا اشرف کے پی سی بی چیرمین کے عہدے سے ہٹائے جانے کے نتیجے میں ان کی پوزیشن کمزور پڑگئی تھی اور معین خان جو نجم سیٹھی کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں، کوچ بن گئے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس اس وقت دو راستے ہیں، یا تو معین خان کو چیف سلیکٹر بناتے ہوئے وقار یونس کو کوچ کی ذمہ داری سونپ دی جائے لیکن اگر ایک بار پھر وقاریونس کے لیے پی سی بی کے اندر مثبت رائے نہیں پائی گئی تو پھر معین خان کو کوچ بنانے پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔ فاس ضمن میں چیف سلیکٹر کے طور پر محسن خان کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔

بیٹنگ کوچ کے لیے سابق کپتان انضمام الحق کا نام بھی سامنے آیا ہے جب کہ سپن بولنگ کنسلٹنٹ کے طور پر لیگ سپنر مشتاق احمد کا نام لیا جا رہا ہے، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو شاید یہ معلوم نہیں کہ میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے جسٹس قیوم کمیشن کی سفارشات کی رو سے پاکستان کرکٹ بورڈ مشتاق احمد کو کسی بھی قسم کی ذمہ داری سونپ نہیں سکتا۔

شہریار خان کے دور میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ نے مشتاق احمد کو بولنگ کنسلٹنٹ کی ذمہ داری سونپی تھی جو اسے واپس لینی پڑی تھی۔

اسی بارے میں