آغاز سے قبل ہی آئی سی ایل کو ریڈ کارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارت فیفا رینکنگ میں اس وقت 145 ویں مقام پر ہے

اکتوبر سنہ 2012 میں ارجنٹینا اور عالمی فٹ بال کے معروف ترین کھلاڑی ڈیاگو میراڈونا جنوبی بھارت کے شہر كنّور آئے تھے۔

عالم یہ تھا کہ عالمی فاتح ٹیم کے رکن رہنے والے اس عظیم کھلاڑی کی ایک جھلک پانے کے لیے سڑکیں اور سٹیڈیم کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ میراڈونا کی حفاظت بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئی تھی اور بس کسی طرح ہی انھیں بھیڑ سے بچایا گیا تھا۔

گذشتہ دنوں ریلائنس آئی ایم جی نے جب انڈین سپر لیگ (آئی ایس ایل) کا اعلان کیا تو ذہن میں ایسے کئی نام سامنے آئے جنھیں انگلش پریمیئر لیگ یا لا ليگا کے میچوں میں صرف ٹی وی پر ہی دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

ذہن میں یہ سوال بھی ابھرا کہ کیا آئی ایس ایل ہندوستانی فٹبال کے شائقین کے سامنے میسی، رونالڈو یا نیمار جیسے ہر ہفتے کروڑوں روپے کی تنخواہ پانے والے بڑے کھلاڑیوں کو اپنے غیر ہموار خراب میدانوں پر اتار پائے گی؟

آئی ایس ایل کے ساتھ معاہدہ کرنے والے بھارت کے مڈ فیلڈر گورمانگي سنگھ نے اس بابت بی بی سی کو بتایا ’ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنے غیر ملکی کھلاڑی اور کتنے بڑے نام اس لیگ کا حصہ ہوں گے یا لیگ کا مستقبل کیا ہوگا۔ ابھی صرف اندازے ہی لگائے جا رہے ہیں۔ لیکن میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ہندوستانی فٹبال میں اس نئی کوشش کے تئیں بہت پر امید ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میرا ڈونا جب بھارت آئے تھے تو ان کو دیکھنے کے لیے لوگ بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے تھے

لیگ کے متعلق ایک اہم افسر کا دعویٰ ہے کہ دو ماہ چلنے والے اس پیشہ ورانہ ٹورنامنٹ میں آٹھ ٹیمیں ہوں گی اور ہر ٹیم کو دس غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی اجازت ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ فی الحال فرانس کے رابرٹ پيئرز اور سویڈن اور ارسنل کی جانب سے کھیلنے والے فریڈرک لنجبرگ کے نام سامنے آئے ہیں۔ ہر ٹیم میں 22 کھلاڑیوں کو رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئي ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر کسی طرح سے آٹھ ٹیمیں 80 غیر ملکی کھلاڑیوں کو کھیلنے کے لیے تیار بھی کر لیتی ہیں تو باقی 96 کھلاڑی کہاں سے آئیں گے۔ بھارت میں اگر اتنے کھلاڑی ہوتے کہ وہاں سے کھلاڑیوں کو منتخب کیا جا سکتا تو فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا میں اس کی رینکنگ بہتر ہوتی۔ بھارت فیفا رینکنگ میں اس وقت 145 ویں مقام پر ہے۔

کرکٹ کی انڈین پریمیئر لیگ کی طرح اس لیگ میں بھی بالی وڈ کے بڑے ناموں اور ارب پتی کھلاڑیوں نے پیسے لگائے ہیں۔ بھارت کے معروف کرکٹرسچن تندولکر كوچّي اور سابق کرکٹ کھلاڑی سورو گنگولی کولکتہ کے مالکان میں میں شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption معروف کرکٹر سچن نے آئی ایس کے بارے میں امید ظاہر کی ہے کہ اس سے اگلی نسل کو فائدہ ہوگا

اس کے علاوہ بالی وڈ اداکار رنبیر کپور (ممبئی)، سلمان خان (پونے) اور جان ابراہم (گوہاٹی) نے بھی پیسہ لگایا ہے۔ لیکن کیا یہ نام باقی دنیا کو یہ اعتماد دلا سکیں گے کہ یہ یقینا ایک بین الاقوامی سطح کی کوشش ہے۔

شیلانگ کے گورمانگي کہتے ہیں: ’میں اسے بالکل دوسری طرح سے دیکھتا ہوں۔ بھارت میں فٹبال پر پیسہ کون لگائے گا۔ اگر فلم سٹار یا کرکٹر آگے آئے ہیں تو بڑی بات ہے۔ ہم سب کو ان کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اسے یوں سمجھیے کہ آئی ایس ایل کا فائدہ ہندوستانی فٹبال کی اگلی نسل کو ملے گا۔‘

سچن تندولکر نے بھی کچھ ایسے ہی خیلات کا اظہار کیا ہے۔ لیگ کے اعلان کے فورا بعد اپنے بیان میں انھوں نے کہا: ’یہ لیگ ملک کے نوجوان کھلاڑیوں کو سیکھنے، اپنی صلاحیت نکھارنے اور خود کو غیر معمولی طور پر فٹ بنانے میں مددگار ہو گی۔ یقینا اس سے ملک کے فٹبال کو فائدہ ملے گا۔‘

ایک بڑا سوال یہ ہے کہ آخر یہ لیگ کب کھیلی جائے گي۔ ابتدائی معلومات کے مطابق بھارت کے موسم کو دیکھتے ہوئے ستمبر میں اس کا آغاز ہو سکتا ہے۔ لیکن بڑی دقت تاریخوں کی ہے کیونکہ فیفا ستمبر، اكتوبر اور نومبرکے مہینوں میں اپنے رکن ممالک کو دوستانہ میچ کھیلنے کی اجازت دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ starplus
Image caption سلمان خان بھی فٹبال کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک ٹیم کے ساتھ سامنے آئے ہیں

فیفا رینکنگ میں اوپر آنے کے لیے دوستانہ میچوں کی کافی اہمیت ہے۔ ایسے میں قومی ٹیموں اور آئی ایس ایل کے ساتھ معاہدہ کرنے والے کھلاڑیوں کے درمیان ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ خود بھارت کی اپنی آئی لیگ کے کلب اپنے کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت دیں گے یا نہیں؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔

ویسے بھی گوا کے چرچل بردرز کے چیف ایکزیکیٹو والنكا آلیماؤ لیگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی اسے بھارتی فٹبال کے لیے نقصان دہ قرار دے چکے ہیں۔

اس کے علاوہ کرکٹ کی طرح اس لیگ میں بھی مفادات کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے کیونکہ اس لیگ میں ٹیم خریدنے والے داتاراج سلگاوكر اور سری نواس ڈیمپو انڈین ليگ کے کلبوں کے بھی مالکان میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں