جب انگلش کرکٹر نازی جرمنی کے دورے پرگئے

Image caption انگلینڈ کے کلب نے جرمنی کو تینوں میچوں میں شکست دی تھی

آج بھی 1930 کی دہائی میں سپورٹس ٹیموں کے نازی جرمنی کے دورے پر تنازع پیدا ہو جاتا ہے جس میں 1938 کے برلن اولمپکس میں انگلش فٹبال ٹیم کا نازی سلیوٹ بھی شامل ہے۔

اب ایک نئی کتاب ’فیلڈ آف شیڈوز‘ سے معلوم ہوا ہے کہ اس ہنگامے کے درمیان برطانیہ کی کاؤنٹی ووسٹرشائر سے ایک کرکٹ ٹیم نے جرمنی کا دورہ کیا تھا۔

اگست سنہ 1937 میں جینٹلمین آف ووسٹرشائر کے کھلاڑی برلن میں تین میچ کھیلنے کے لیے پہنچے اور ان میچوں کا انعقاد کھیلوں میں دلچسپی لینے والے نازی انتظامیہ کے حکام نے کیا تھا۔

کتاب ’فیلڈ آف شیڈوز‘ کے مصنف ڈان وڈیل کے مطابق نازی جرمنی میں کھیلوں کے سربراہ ہسنونچمار اونڈ اوسٹن نے انگلینڈ کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے ٹینس کے ٹورنامنٹ ڈیوس کپ کا سیمی فائنل دیکھا تھا اور اس کے علاوہ انھیں لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں مڈل سیکس اور ووسٹرشائر کاؤنٹی کے درمیان ہونے والا میچ دیکھنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس میچ میں مڈل سیکس نے ووسٹر شائر کو شکست دی تھی۔

میری لیبون کرکٹ کلب کے ریکارڈ میں اس دورے کی تفصیل موجود ہے اور اس کے مطابق جرمن رہنما نے ووسٹر شائر اور جینٹلمین آف ووسٹر شائر کے سابق کھلاڑی میجر مارس جول سے ملاقات کی اور انھیں کرکٹ ٹیم کے ساتھ برلن کے دورے کی دعوت دی۔

جینٹلمین آف وورسٹر یا جینٹس کو دنیا کی سب سے قدیم کرکٹ ٹیم کہا جاتا ہے جس نے 1848 میں اپنا پہلا میچ کھیلا تھا۔ اس کلب کو خانہ بدوشوں کا کلب بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا اپنا کوئی گراؤنڈ نہیں ہے۔

نازی وزیر کی دعوت پر میجر جول نے دولت مند کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم تشکیل دینا شروع کی۔ اس ٹیم میں پانچ کھلاڑی ایسے تھے جنھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ہوئی تھی اور پبلک سکول کے طلبا تھے۔ ٹیم نے چند ہفتوں میں برلن کا دورہ کرنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انگلش ٹیم جب برلن پہنچی تو شہر کی 700 ویں سالگرہ کی تقریبات جاری تھیں

کتاب ’فیلڈ آف شیڈوز‘ کے مصنف ڈان وڈیل کے مطابق سولہ سالہ طالب علم پیٹر رابنسن بھی اس ٹیم میں شامل تھے جس نے 1937 میں برلن کا دورہ کیا تھا۔

پیٹر رابنسن نےدورے کے دوران تمام میچ کھیلے کیونکہ ٹیم کے ایک باقاعدہ کھلاڑی نمونیے کی وجہ سے بیمار پڑ گئے۔

انھوں نے تین اگست 1937 کو اپنے گھر ایک خط لکھا جس میں انھوں نے صبح میں شراب نوشی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ اس وقت صبح کے سوا نو بجے ہیں اور یہاں انگلینڈ کے مقابلے میں بیئر بہت اعلیٰ ہے۔‘

پیٹر رابنسن نے کرکٹ گراؤنڈ کی پچ کو بہت ہی غیر معمولی قرار دیا تھا۔ انگلش ٹیم ایک ایسے وقت برلن پہنچی جب شہر کی 700ویں سالگرہ کی تقریبات جاری تھیں اور میزبانوں کو اپنی فوجی طاقت کے مظاہرے کو دکھانے کا موقع بھی مل گیا تھا۔

انگلش ٹیم کو پہلے میچ سے قبل نازی سیلوٹ کرنے کا بھی کہا گیا اور انھوں نے ایسا کیا بھی۔

مصنف نے برلن کا دورہ کرنے والے کھلاڑیوں کی ڈائریوں اور دیگر کتابوں کو جمع کیا۔ مصنف کے مطابق انگلش ٹیم کے کھلاڑی شائستہ رہنے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ غیر مہذب ہونے کی صورت میں میزبانوں کی نفرت اور حقارت کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

مصنف کے مطابق انگلش ٹیم جب برلن پہنچی تو اس وقت سلیوٹ کیا گیا لیکن جب وہ دورہ مکمل کرنے والی تھی تو ان کے رویے میں تبدیلی آ چکی تھی اور اگر فائنل میچ میں انھیں ایسا کرنے کے لیے کہا جاتا تو وہ انکار کر دیتے۔ اس کے علاوہ ان کی بے چینی بڑھ چکی تھی اور انھوں نے کھیلوں کے وزیر کے ساتھ تصاویر لینے سے بھی انکار کر دیا۔

انگلش ٹیم میں شامل ایک کھلاڑی رچرڈ ویلیز نے برلن سے روانگی کے بارے میں لکھا کہ’ ہم خوش قسمت اور خوش تھے کہ سٹیشن پہنچ گئے۔‘

اگرچہ انگلش ٹیم برلن کے راتوں سے لطف اندوز ہوئی لیکن ان کے سخت نگرانی کی جاتی رہی۔ کھلاڑیوں کے مطابق شرارت آمیز ماحول کے علاوہ جرمن کھلاڑیوں کے نامناسب رویے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

رابنسن نے شکایت کی کہ’ مجھے جرمن بالر نے رن آؤٹ کر دیا، اس نے گیند نہیں کرائی تھی اور کریز سے آگے بڑھا تو مجھے متنبہ کیے بغیر رن آؤٹ کر دیا۔‘تاہم دونوں ٹیموں کے تعلقات عام طور پر ٹھیک ہی رہے۔

اس دورے کے دوران یہ قیاس آرائیاں بھی ہوتی رہیں کہ انگلش ٹیم میں ایک جاسوس بھی شامل ہے۔

رابن ودرلے ایک اچھے کھلاڑی تھے لیکن ان کا تعلق نہ تو وورسٹر شائر کرکٹ کلب سے تھا اور نہ ہی جینٹس کرکٹ کلب سے اور یہ برلن بھی ٹیم کے ساتھ نہیں گئے تھے اور الگ سفر کیا تھا۔

Image caption انگلش ٹیم کو دورے میں جرمن کھلاڑیوں کے غیرمناسب رویے کا سامنا بھی کرنا پڑا

ڈان وڈیل کے نظریے کے مطابق انگلش کرکٹ حکام نے دفتر خارجہ کو دورے کے بارے میں آگاہ کیا۔ رابن وردلے اچھی جرمن بول سکتے تھے اور انھیں کہا گیا کہ وہ ٹیم میں شامل ہو کر معلومات جمع کریں کیونکہ یہ جرمن کے سرگرمیوں کے بارے میں جاننے کا اچھا موقع تھا اور واپس آنے پر شاید وہ وائٹ ہال گئے تھے اور کسی سے بات کی تھی۔

وہ جنگ کے دوران بلقان میں مارےگئے تھے کیونکہ وہ برطانوی سپیشل فورسز کے باقاعدہ رکن تھے۔

دورے میں شامل بعض کھلاڑیوں نے جرمنی کو’ عجیب جگہ‘ قرار دیا کیونکہ بقول کھلاڑیوں کے بعض میچوں کے درمیان انھیں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔

پرجوش فیلکس مینزل سمیت بعض جرمنوں نے کرکٹ کو زندہ رکھا۔ انھوں نے 1945 میں ایک عمارت کے ملبے سے نکل کر برطانوی فوجیوں کو کرکٹ میچ کی دعوت دے کر حیران کر دیا۔ یہ میچ کھیلا گیا اور برطانوی فوجیوں ممعولی فرق کے ساتھ جیتنے میں کامیاب رہے۔

مینزل اب ایک گمنام شخصیت بن چکےہیں اور انگلش کرکٹ بھی 1937 کے دورے کو بھول چکا ہے۔

اسی بارے میں