امریکی ایتھلیٹ ٹائسن گے کو ’نرم‘ سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹائسن گے کو کم سزا ان کے تعاون کی وجہ سے دی گئی ہے: یوساڈا

امریکی ایتھلیٹ ٹائسن گے کو ممنوعہ ادویات کے استعمال کرنے کے جرم میں ایک سال کی معطلی کی سزا سنائی گئی ہے۔

ٹائسن گے کی معطلی اسی دن سے تصور کی جائی گی جس دن وہ ممنوعہ ادویات استعمال کر کے مقابلے میں حصہ لے رہے تھے۔

ٹائسن گے کو مئی 2013 میں ایک مقابلے کے دوران اپنے پیشاب کا جو نمونہ دیا تھا اس میں ممنوعہ ادویات کے اثرات ملے تھے۔

ٹائی سن گے کا موقف ہے کہ اس نے کسی ایک شخص پر اعتماد کیا تھا جس نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔

بعض سابق اولمپیئین نے ٹائی سن گے کو دی گئی سزا کو انتہائی نرم قرار دیا ہے۔

اولمپک سوئمنگ میڈلسٹ مائیکل جیمئسن کا کہنا ہے کہ ٹائسن گے سے نرم برتاؤ کیاگیا ہے۔

امریکی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی یوساڈا نے کہا ہے کہ ٹائسن گے کو کم سزا دینے کی وجہ ان کا وہ تعاون ہے جو انھوں نے ممنوعہ ادویات کے اثرات ملنے کے بعد کیا ہے۔

یوساڈا نے کہا ٹائسن گے پر دو سال کی پابندی عائد ہو سکتی تھی لیکن انھوں نے ایجنسی کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جس کی وجہ سے انہیں کم سزا ملی ہے۔

مائیکل جیمئسن نے کہا کہ اور کوئی کھلاڑی نزلہ زکام سے بچنے کی دوائی لے کر سخت سزاؤں کا سامنا کر سکتا ہے جبکہ ٹائسن گے ٹیسٹوسٹریون لینے کے باوجود ایک سال کی سزا ملتی ہے۔

ٹائی سن گے اگلے ماہ سے دوبارہ مقابلوں میں حصہ لے سکیں گے کیونکہ ان کی معطلی اس تاریخ سے شروع کی گئی ہے جب وہ پہلی بار ممنوعہ دوا لیتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ٹائسن گے اگلے اگلے اولمپکس اور ورلڈ چیمپئین شپ میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔

اسی بارے میں