مضبوط ٹیم کی تشکیل اولین ترجیح ہے:وقار یونس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابھی وقار کے ساتھ کام کرنے والے نئے کوچنگ سٹاف کا اعلان نہیں کیا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دوسری مرتبہ کوچ بننے والے وقار یونس اس ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کے لیے اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لانا چاہتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے انہیں تمام لوگوں کا تعاون درکار ہوگا۔

وقار یونس ان دنوں آئی پی ایل کی کمنٹری کے لیے بھارت میں موجود ہیں۔ ممبئی سے بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وقار یونس کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط ٹیم کی تشکیل ان کی اولین ترجیح ہے۔

’تمام لڑکے میرے لیے نئے نہیں ہیں میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ان کے ساتھ پہلے بھی کام کرچکا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ کھلاڑیوں، بورڈ اور میڈیا کے تعاون سے ٹیم کی خامیوں کو دور کر کے اسے ایک مضبوط ٹیم بنایا جائے گا۔‘

وقاریونس اس سے قبل مارچ 2010 میں کوچ بنائے گئے تھے اور ان کے دور میں پاکستانی ٹیم نے 2010 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور 2011 کے عالمی کپ کے سیمی فائنل کھیلے تھے جبکہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز ڈرا کی تھی اور نیوزی لینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں ہرایا تھا۔

وقار یونس نے اگست 2011 میں کوچ کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جس کی وجہ انہوں نے اپنی خراب صحت بتائی تھی لیکن ویسٹ انڈیز کے دورے میں ان کے شاہد آفریدی کے ساتھ اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے تاہم وہ ماضی پر بات کرنے کے بجائے حال اور مستقبل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

’ کوچنگ کا مجھے آئیڈیا ہے یہ کیسے کی جاتی ہے۔ پاکستانی ٹیم کے ساتھ کوچ اور بولنگ کوچ کے علاوہ میں آئی پی ایل اور سری لنکن لیگ میں بھی کوچنگ کرچکا ہے مجھے یقین ہے کہ میرا تجربہ پوری طرح میدان میں نظر آئے گا۔‘

وقاریونس کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ ورلڈ کپ اب زیادہ دور نہیں ہے اور قوم کرکٹ اور خاص کر عالمی کپ کے موقع پر بڑی جذباتی واقع ہوجاتی ہے۔

’یہ بات درست ہے کہ قوم کرکٹ کے سلسلے میں جذباتی ہے اور ہر کوئی پاکستانی ٹیم سے یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ ہر میچ جیتے۔ کوشش تو یہی ہوگی کہ ہر میچ جیتا جائے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات بھی درست ہے کہ ورلڈ کپ میں سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے لہذا کوشش یہ ہوگی کہ عالمی کپ سے قبل پاکستانی ٹیم جتنی بھی سیریز کھیلے ان میں کھلاڑیوں کو مواقع دیے جائیں تاکہ وہ خود کو عالمی ایونٹ کے لیے تیار کر سکیں۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ پاکستان ورلڈ کپ جیت جائے گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے مطابق اچھے سے اچھا کھیل پیش کیا جائے گا۔‘

اسی بارے میں