مثبت ڈوپ ٹیسٹ، پاکستانی کرکٹر پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کاشف صدیق کے ٹیسٹ میں ان کے خون میں دو ممنوعہ ادویات نینڈرولون اور سٹینوزولول پائی گئیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے فرسٹ کلاس کرکٹر کاشف صدیق پر مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی پاداش میں دو سال کی پابندی عائد کردی ہے۔

کاشف صدیق پاکستان کے ڈومیسٹک سیزن میں حصہ لینے والی سٹیٹ بینک کی ٹیم کے کپتان ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی کپ کے موقع پر کرکٹرز کے ڈوپ ٹیسٹ کرائے تھے۔

نئی دہلی میں واڈا کی منظور شدہ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق کاشف صدیق کے ڈوپ سیمپل میں ممنوعہ اجزا پائے گئے جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ معاملہ اپنے تین رکنی انٹی ڈوپنگ ٹریبونل کے سپرد کر دیا تھا جس نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد کاشف صدیق کو ڈوپنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔

کاشف صدیق کے ٹیسٹ میں ان کے خون میں دو ممنوعہ ادویات نینڈرولون اور سٹینوزولول پائی گئیں۔

ان پر عائد کردہ پابندی کا اطلاق آٹھ جنوری سے ہوگا۔ کاشف صدیق 131 فرسٹ کلاس میچز کھیل چکے ہیں جن میں انہوں نے 13 سنچریاں سکور کی ہیں ۔

وہ 105 وکٹیں بھی حاصل کرچکے ہیں جن میں ایک ہیٹ ٹرک بھی شامل ہے۔ ان کے والد صدیق خان سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور پاکستان کے انٹرنیشنل امپائر تھے۔

کاشف صدیق کے بڑے بھائی خرم صدیق بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں۔

کسی پاکستانی کرکٹر کے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ان سے قبل ٹیسٹ کرکٹرز شعیب اختر، محمد آصف اور عبدالرحمان پر بھی مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی وجہ سے پابندی عائد ہو چکی ہے۔

شعیب اختر اور محمد آصف 2006 میں مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی پاداش میں پابندی کا سامنا کر چکے ہیں۔ شعیب اختر پر دو سال کی اور محمد آصف پر ایک سال کی پابندی لگائی گئی تھی تاہم بعد میں دونوں بولروں کی اپیل پر پابندی ہٹا دی گئی۔

.

اسی بارے میں