’محسن حسن خان کا عمل افسوسناک ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption وقار یونس بھارت جا رہے تھے اور جانے سے پہلے انھوں نے خود چیئرمین سے ملنے کی خواہش کی تھی: انتخاب

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مشیر ظہیر عباس اور کوچ کمیٹی کے رکن انتخاب عالم نے محسن خان کے الزامات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

قذافی سٹیڈیم لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں انتخاب عالم نے کہا کہ وقار یونس کو تجربے کی بنیاد پر ترجیح دی گئی ہے اور وہ پہلے بھی دو بار پاکستان کی کوچنگ کر چکے ہیں اور اسی تجربے کے سبب ان کا تقرر کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جب بھی کسی عہدے کے لیے لوگوں سے درخواستیں مانگی جاتی ہیں تو ان میں سے ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے اور ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا کہ جس کو اس عہدے کے لیے نہ رکھا گیا ہو وہ پریس کانفرنس کرنا شروع کر دے اس لیے محسن حسن خان کا یہ عمل کافی افسوسناک ہے۔

ان دونوں حضرات سے جب یہ پوچھا گیا کہ صرف وقار یونس ہی کو پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی سے ملنے کا موقع دیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وقار یونس بھارت جا رہے تھے اور جانے سے پہلے انھوں نے خود چیئرمین سے ملنے کی خواہش کی تھی۔

اس بات پر کہ محسن حسن خان کا انٹرویو کیوں نہ کیا گیا تو ظہیر عباس کا جواب تھا کہ انٹرویو تب کیا جاتا ہے جب کسی کے بارے میں علم نہ ہو۔ محسن حسن خان ایک اچھے کوچ ہیں لیکن بہترین انتخاب وقار یونس تھے اس لیے انہی کو یہ ذمہ داری دی گئی۔

ظہیر عباس نے کہا کہ جن لوگوں پر کبھی میچ فکسنگ کے الزامات لگے تھے ان میں کئی ایسے تھے جن پر الزامات ثابت نہیں ہو سکے اس لیے اس معاملے کا دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

انھوں نے محسن حسن خان کو تنبیہ کی کہ وہ الزام تراشی نہ کریں کیونکہ ان کے بارے میں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو فون پر کہتے رہے ہیں کہ انہیں کوچ بنانے کے لیے ان کی سفارش کریں۔

کوچ کمیٹی کے رکن انتخاب عالم نے بتایا کہ پانچ روز میں باقی کوچنگ سٹاف کا اعلان کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں