جسٹس قیوم نے سفارشات دی تھیں فیصلہ نہیں:مشتاق احمد

مشتاق احمد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کومستقبل کے لیے چند اچھے سپنر دینا چاہتا ہوں

سابق لیگ سپنر مشتاق احمد نے جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے اپنی تقرری پر کیے جانے والے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس قیوم کمیشن نے سفارشات کی تھیں، فیصلے نہیں دیے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی تقرری پہلی بار ہو رہی ہوتی تو یہ بات اچھالنے کی وجہ سمجھ میں بھی آتی۔

پیر کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے مشتاق احمد کو پاکستانی ٹیم کا سپن بولنگ کوچ مقرر کیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی کرکٹ میں میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ 2000 میں منظرعام پر آئی تھی جس میں یہ بات درج تھی کہ مشتاق احمد کو مستقبل قریب میں ٹیم اور بورڈ میں کوئی بھی عہدہ اور ذمہ داری نہ سونپی جائے۔

کمیشن نے مشتاق احمد پر تین لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

مشتاق احمد نے سپن بولنگ کوچ کی حیثیت سے تقرری کے فوراً بعد بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ طویل عرصے سے کوچنگ کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں لیکن کسی نے بھی ان پر اعتراض نہیں کیا:

’میں پہلے بھی پاکستانی ٹیم کا اسسٹنٹ کوچ رہا۔ انگلینڈ کا بولنگ کوچ رہا، آئی پی ایل اور کاؤنٹی کرکٹ میں بھی کوچنگ کی لیکن کسی نے انگلی نہیں اٹھائی۔ کیا انھیں تمام باتوں کا پتہ نہیں تھا؟ یہ اعتراض اس وقت تو سمجھ میں آتا ہے جب میں پہلی بار پاکستانی ٹیم کے کوچنگ سٹاف میں شامل ہوتا۔‘

مشتاق احمد کے خیال میں جسٹس قیوم کمیشن نے فیصلے نہیں دیے تھے بلکہ سفارشات پیش کی تھیں۔

’جسٹس قیوم کمیشن نے صرف سفارشات دی تھیں۔ عطاالرحمن کی تاحیات پابندی بھی ختم ہو چکی، سلیم ملک نے بھی اپنی تاحیات پابندی ختم کرنے کے لیے کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا ہے، لہٰذا اب اس معاملے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجانا چاہیے۔‘

مشتاق احمد کاکہنا ہے کہ وہ کسی تنازعے میں الجھنا نہیں چاہتے۔

’میری کوشش یہی ہے کہ میں اپنی توانائی اس بحث کی بجائے پاکستانی کرکٹ کے لیے صرف کروں۔ ماضی میں میرا تجربہ ٹیموں کے کام آیا ہے۔ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ میرے ہوتے ہوئے انگلینڈ کی ٹیم تینوں فارمیٹ میں عالمی نمبر ایک رہی۔ میں اس نئی ذمہ داری میں پاکستان کومستقبل کے لیے چند اچھے سپنرز دینا چاہتا ہوں۔‘

اسی بارے میں