گرانٹ فلاور پاکستانی ٹیم کے نئے بیٹنگ کوچ

گرانٹ فلاور تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گرانٹ فلاور اس وقت زمبابوے کی قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ بطور بیٹنگ کوچ منسلک ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے مرکزی اور سپن بولنگ کوچ کی تعیناتی کے بعد اب بلے بازوں کی مدد کے لیے بیٹنگ کوچ بھی مقرر کر دیا ہے۔

اس عہدے کےلیے زمبابوے سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار کوچ گرانٹ فلاور کا انتخاب کیاگیا ہے۔

ان کی تقرری اسی عمل کا حصہ ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ وقار یونس کو ہیڈ کوچ بنائے جانے کے بعد نئے کوچنگ سٹاف کے انتخاب کے سلسلے میں کر رہا ہے۔

گرانٹ فلاور کی تقرری معین خان، انتخاب عالم اور ہارون رشید پر مشتمل کوچ کمیٹی کی مشاورت کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کی۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس اور پی سی بی کے مشیر ظہیر عباس نے بھی گرانٹ فلاور کو بیٹنگ کوچ بنانے کی حمایت کی۔

زمبابوے کے لیے 67 ٹیسٹ اور 221 ون ڈے کھیلنے والے 43 سالہ گرانٹ فلاور کرکٹ کوچنگ کے لیول تھری سرٹیفیکیٹ کے حامل ہیں۔

وہ اس وقت زمبابوے کی قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ ہیں۔ انھوں نے سنہ 2010 میں یہ ذمہ داری سنبھالی تھی لیکن ان کا معاہدہ رواں برس اگست میں ختم ہو رہا ہے۔

گرانٹ فلاور کی تقرری دو برس کے لیے کی گئی ہے اور وہ پاکستانی ٹیم کے دورۂ سری لنکا کے موقع پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم کے لیے باقاعدہ بیٹنگ کوچ مقرر کیا ہے۔ ماضی میں بورڈ وقتی طور پر بیٹنگ کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرتا رہا ہے۔

پاکستان کے کرکٹ بورڈ نے گذشتہ ماہ قومی ٹیم کی کوچنگ کے لیے امیدواروں کی تلاش شروع کی تھی جس کے نتیجے میں سابق فاسٹ بولر وقار یونس کو ٹیم کا ہیڈ کوچ جبکہ سابق پاکستانی لیگ سپنر مشتاق احمد کو سپن بولنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔

کرکٹ بورڈ نے ٹیم کے نئے فیلڈنگ کوچ کے لیے بھی درخواستیں طلب کی تھیں تاہم ابھی تک اس عہدے پر کوئی تقرری نہیں ہوئی ہے البتہ اطلاعات ہیں کہ فیلڈنگ کوچ کے لیے بھی زمبابوے ہی سے تعلق رکھنے والے رچرڈ ہال سل مضبوط امیدوار ہیں۔

گذشتہ برس دسمبر میں ڈیو واٹمور کے عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان معین خان کو ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے کوچ مقرر کیا تھا اور شعیب محمد فیلڈنگ کوچ بنائے گئے تھے۔

ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم فائنل میں پہنچی تھی لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتےہوئے پہلی بار سیمی فائنل تک بھی نہ پہنچ سکی تھی۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لیے غیر ملکی فیلڈنگ اور ہیڈ کوچز رکھے جا چکے ہیں تاہم اس فیصلے کے زبردست نتائج سامنے نہیں آئے۔

اسی بارے میں