’پی سی بی جسٹس قیوم کی سفارشات کو مانتا ہے یا نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق قانونی مشیر کہتے ہیں کہ جسٹس قیوم کمیشن کی تحقیقات اور سفارشات حقیقت ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جسٹس قیوم کمیشن کی سفارشات کو مانتا ہے یا نہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق قانونی مشیر علی سبطین فضلی کا کہنا ہے کہ میچ فکسنگ کے بارے میں قیوم کمیشن کی تحقیقات اور ان کی سفارشات حقیقت ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا کہتے ہیں کہ جن کرکٹروں کے نام جسٹس قیوم رپورٹ میں شامل ہیں وہ پہلے ہی مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں، لہٰذا اب تنقید لاحاصل ہے۔

واضح رہے کہ سابق لیگ سپنر مشتاق احمد کی پاکستان کرکٹ ٹیم کے سپن بولنگ کے کوچ کی حیثیت سے تقرری پر یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ چونکہ میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن کی سفارشات میں یہ کہا گیا تھا کہ انھیں مستقبل میں ٹیم اور بورڈ میں کوئی بھی ذمہ داری نہ سونپی جائے، لہٰذا پاکستان کرکٹ بورڈ نے انھیں سپن بولنگ کوچ بنا کر جسٹس قیوم کمیشن کی سفارشات کی خلاف ورزی کی ہے۔

مشتاق احمد اور پاکستان کرکٹ بورڈ دونوں اس اعتراض کو مسترد کر چکے ہیں۔

سابق کپتان راشد لطیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس قیوم نے جو بھی انکوائری کی اس پر مکمل عمل درآمد نہیں کرایاگیا اور نہ ہی اس کی آئی سی سی سے توثیق کرائی گئی، یہی وجہ ہے کہ آج تک تنازعات چلے آ رہے ہیں۔

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک بار یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جسٹس قیوم رپورٹ کو مانتا ہے یا نہیں۔ یہ بات واضح ہو جانی چاہیے۔

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ آئی سی سی، پاکستان کرکٹ بورڈ اور دوسرے کرکٹ بورڈ اس طرح کی رپورٹوں کو مانتے تو ہیں لیکن ان میں پسند ناپسند کا عمل دخل نمایاں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی مثال سری نواسن ہیں جنھیں بھارتی سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کے صدر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے لیکن انھوں نے غیرقانونی طور پر آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ آئی سی سی کے انٹی کرپشن ضابطۂ اخلاق کے آرٹیکل نو کے پارٹ ون اور ٹو میں واضح طور پر موجود ہے کہ کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث کوئی بھی کرکٹر اور آفیشل کسی بھی ملک میں نہ کھیل سکتا ہے نہ کرکٹ سے متعلق کوئی کام کر سکتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق قانونی مشیر علی سبطین فضلی کہتے ہیں کہ جسٹس قیوم کمیشن کی تحقیقات اور سفارشات ایک حقیقت ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک ادارہ ہے البتہ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد اب یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ انکوائری غلط تھی، یہ انکوائری خود پاکستان کرکٹ بورڈ کے کہنے پر حکومت پاکستان نے انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت کرائی تھی اور چیف جسٹس آف پاکستان نے صدر مملکت کے بھیجے گئے ریفرنس پر جسٹس قیوم کو تحقیقات کے لیے مقرر کیا تھا۔

ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفیٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا کا خیال یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ماضی میں بھی مشتاق احمد سمیت متعدد ایسے کرکٹروں کی تقرریاں کر چکا ہے جن کے نام جسٹس قیوم اور جسٹس اعجاز یوسف کی رپورٹوں میں شامل رہے ہیں، لہٰذا اب مشتاق احمد کی دوبارہ تقرری پر تنقید کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ مشتاق احمد نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ بلکہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھی کوچ مقرر ہو چکے ہیں اور اگر ان کی تقرری کو روکنا تھا تو آئی سی سی نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو کیوں نہیں روکا؟

توقیرضیا نے الزام لگایا ہے کہ آئی سی سی ایک غیر موثر ادارہ بن کر رہ گیا ہے اور اس کا اینٹی کرپشن یونٹ بھی انتہائی بے اثر ہے، کیونکہ آئے دن کرپشن کے نئے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال نیوزی لینڈ کے بیٹسین لو ونسنٹ کے انکشافات ہیں کہ کرکٹ اب جنٹلمین کا کھیل نہیں رہا۔

اسی بارے میں