بولیوِیا کے صدر اب فٹ بال کھیلیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدر موریلس 2006 میں ہونے والے ایک میچ میں گول کیپر سےٹکر کے بعد اپنی ناک تڑوا بیٹھے تھے

بولیوِیا کے 54 سالہ صدر ایوو موریلس نے ملک کے مقامی فٹ بال کلب سپورٹس بوائز کلب کی طرف کھیلنے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملک کے جنوب مشرقی صوبے میں واقع کلب کے مطابق صدر ایوو موریلس اپنی مصروفیات کی وجہ سے ہر میچ میں صرف 20 منٹ کے لیے کھیلیں گے۔ صدر موریلس کی تنخواہ 214 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

سپورٹس بوائز کے صدر نے کہا کہ صدر موریلس دس نمبر کی شرٹ پہن کر کلب کی طرف سے کھیلیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کلب انتظامیہ صدر کو فٹ بال میچوں کی فہرست بھیجے گی جس کے بعد صدر موریلس خود اپنے پسندیدہ میچوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کریں گے۔

ملک کی ایک مقامی سیاسی پارٹی ایم اے ایس کے رکن ایڈون ٹیوپا نے کہا ہے کہ صدر موریلس کے لیے سپورٹس بوائز کی طرف سے کھیلنے سے صدر کا ایک خواب پورا ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدر موریلس اپنی مصروفیات کی وجہ سے ہر میچ میں صرف 20 منٹ کے لیے کھیلیں گے

واضح رہے کہ صدر موریلس اس سے پہلے بھی متعدد صحافیوں، سیاست دانوں اور یونین لیڈروں کے ساتھ فٹ بال کھیل چکے ہیں اور وہ مکمل طور پر فٹ ہیں۔ البتہ 2006 میں وہ ایک میچ کے دوران گول کیپر سےٹکرانے کے بعد اپنی ناک تڑوا بیٹھے تھے۔

اس کے علاوہ 2007 میں صدر نے سطح سمندر سے چھ ہزار میٹر کی بلندی پر ایک فٹ بال میچ میں حصہ لیا تھا جس کو منعقد کروانے کا مقصد بولیویا کے سطح سمندر سے اونچے میدانوں میں فٹ بال کھیلنے کے خلاف بڑھتے ہوئے عالمی ردِ عمل کا جواب دینا تھاـ

یاد رہے کہ 2007 میں فٹ بال کی نگراں تنظیم فیفا نے سطح سمندر سے ڈھائی ہزار میٹر سے اونچے میدانوں پر فٹ بال کھیلنے کی پابندی عائد کر دی تھی۔

فیفا کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا تھا جب برازیل کے کھلاڑیوں نے بولیوِیا میں ہونے والے ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کے میچوں میں فیفا سے کھیل کے دوران ہوا کی کمی اور سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی تھی۔

اسی بارے میں