ذکا اشرف پھر آؤٹ، نجم سیٹھی اِن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تعیناتی کسی عدالت کا کام نہیں ہے: عاصمہ جہانگیر

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے طور پر ذکا اشرف کی بحالی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے بدھ کو اپنے عبوری فیصلے میں نجم سیٹھی کو بطور پی سی پی چیئرمین بحال کرنے کرنے کا حکم دیا ہے۔

انصاف کا بول بالا مگر ادارہ بے یقینی کا شکار

درخواست گُزار کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نجم سیٹھی کی تقرری وزیر اعظم نے کی ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف بھی ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ انتظامی اختیارات میں مداخلت کے برابر ہے اور ایسے فیصلوں سے کرکٹ کے کھیل پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے اس کے علاوہ کرکٹ بورڈ کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری ذکا اشرف کو عدالتی حکم پر دوسری مرتبہ اُن کے عہدے پر بحال کیا تھا

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تعیناتی کسی عدالت یا میڈیا کا کام نہیں ہے یہ حکومت کا کام ہے لہذا حکومتی امور میں مداخلت نہ کی جائے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی بھی سپریم کورٹ میں موجود تھے حالانکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے درخواست بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کی وزارت نے دائر کی ہے۔

وفاقی حکومت نے چوہدری ذکا اشرف کی بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ بحالی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 27 مئی کو فریقین کو طلب کیا ہے۔

سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا کہ بورڈ کا آئین تیار کیا جارہا ہے اور جب یہ کام مکمل ہوجائے گا اور انتخابات ہوجائیں گے تو وہ ایک لمحہ بھی اس سیٹ پر نہیں رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نجم سیٹھی اور ذکا اشرف کے درمیان بحالی برخاستگی کا کھیل بہت عرصے سے جاری ہے

اُنھوں نے کہا کہ وہ بحثیت چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ مراعات نہیں لے رہے بلکہ سارا خرچہ اپنی جیب سے کرر ہے ہیں۔

ایک صحافی نے جب نجٹ سیٹھی سے سوال کیا کہ اُنھیں پی سی بی کی چیئرمین شپ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو ’پنکچر‘ لگانے کے صلے میں ملی ہے تو پی سی بی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس بات کے ثبوت نہ میڈیا کے پاس ہیں اور نہ ہی عمران خان کے پاس۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف یہ درخواست منگل کو بین الصوبائی رابطوں کی وزارت کی طرف سے عاصمہ جہانگیر کی وساطت سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ چوہدری ذکا اشرف کی بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی بحالی کے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور نجم سیٹھی سمیت دیگر افراد کو اُن کے عہدوں پر بحال کیا جائے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نور الحق قریشی نے چوہدری ذکا اشرف کی طرف سے برطرفی کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے اُن کی برطرفی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اُنھیں دوبارہ بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔

چوہدری ذکا اشرف کو عدالتی حکم پر دو مرتبہ ان کے عہدے پر بحال کیا جا چکا ہے۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر محمد الیاس کو اُن کے عہدے پر بحال کر دیا تھا۔

اسی بارے میں