’وزیراعظم پیٹرن کا کردار برقرار رکھنا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’میرا موقف ہے کہ پیٹرن کا کردار تو رہے لیکن پی سی بی کا آئین زیادہ جمہوری ہو کیونکہ یہ جمہوریت کا دور ہے اور لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان چاہتے ہیں کہ کرکٹ بورڈ میں پیٹرن کا کردار رہے اور ان کی خواہش ہے کہ اس بارے میں پی سی بی کے آئین میں تبدیلی نہ ہو۔

یہ بات دو دن کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی کرسی سے دور رہنے والے نجم سیٹھی نے بحال ہونے کے بعد قذافی سٹیڈیم لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کی۔

انھوں نے کہا تاہم ان کا موقف ہے کہ پیٹرن کا کردار تو رہے لیکن پی سی بی کا آئین زیادہ جمہوری ہو کیونکہ یہ جمہوریت کا دور ہے اور لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ پی سی بی کا نیا آئین منظوری کے لیے حکومت کو دے دیا گیا ہے اور حکومت سے درخواست ہے کہ آٹھ جون سے پہلے اسے منظور کر لیا جائے تاکہ عدالت کی جانب سے دیے گئے وقت سے پہلے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا جمہوری انداز میں انتخاب کر لیا جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر براجمان شخص ملک کے کرکٹ بورڈ کے آئین کے مطابق ادارے کا پیٹرن ہوتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ چیئرمین کے انتخاب میں کیا وہ خود بھی حصہ لیں گے تو نجم سیٹھی کا جواب تھا کہ اس کا فیصلہ بھی پی سی بی کے پیٹرن پر ہی چھوڑ دیں۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں بدعنوانی کو ختم کرنا ایک جاری عمل ہے اور اس ضمن میں ان کی کوشش تھی کہ راشد لطیف چیف سلیکٹر بن جائیں۔

’تمام کھلاڑی ان سے (راشد لطیف) خوفزدہ ہوں اور صاف نظام شروع ہو جائے اور میری یہی کوشش ہو گی کہ جو اچھے لوگ ابھی تک کرکٹ بورڈ کا حصہ نہیں بنے وہ بھی شامل ہو جائیں۔‘

نجم سیٹھی کے مطابق انھیں بحثیت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے سکیورٹی کے کوئی خدشات نھیں لیکن انھوں نے جو سکیورٹی لے رکھی ہے وہ اس لیے ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے لیے سکیورٹی کے خدشات موجود ہیں۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ سری لنکا کے صدر کی جانب سے یہ بیان کہ سری لنکا کی ٹیم کو پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے ایک خوش آئند بات ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان آنے کی دعوت سری لنکن کرکٹ بورڈ کو بھیج دی گئی ہے۔

اسی بارے میں