میچ فکسنگ: لو ونسنٹ اور نوید عارف معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ونسنٹ نے آئی سی سی کو سنہ 2008 سے 2012 کے دوران 12 میچوں میں فکسنگ کے ثبوت دیے ہیں

انگلش کرکٹ بورڈ نے ماضی میں سسیکس کاؤنٹی کے لیے کھیلنے والے نیوزی لینڈ کے سابق انٹرنیشنل کھلاڑی لو ونسنٹ اور پاکستانی نژاد برطانوی فرسٹ کلاس کرکٹر نوید عارف کے خلاف میچ فکسنگ کا الزامات کے تحت کارروائی شروع کرتے ہوئے انھیں معطل کر دیا ہے۔

یہ الزامات اگست سنہ 2011 میں سسیکس اور کینٹ کے مابین ایک روزہ میچ کے حوالے سے ہیں۔

’پاکستانی سمیت 12 کرکٹرز میچ فکسنگ میں ملوث‘

اگر ان دونوں پر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ بورڈ کے حکام یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہیں گے کہ انگلش سرزمین پر کھیلا گیا کوئی کاؤنٹی میچ فکس تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ای سی بی نے لوئی ونسنٹ پر مذکورہ ایک روزہ میچ کے علاوہ سسیکس اور لنکاشائر کے مابین کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی فکسنگ کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا ہے اور ان پر دونوں میچوں میں فکسنگ کے حوالے سے 14 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

32 سالہ پاکستانی نژاد کرکٹر نوید عارف پر صرف ایک روزہ میچ میں فکسنگ کے تناظر میں چھ الزامات لگائے گئے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس وقت یہ میچ ہوا اس وقت بھی نتائج پر کافی سوالات اٹھے تھے تاہم آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے انہیں مسترد کردیا تھا۔

انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے لوئی ونسنٹ اور نوید عارف کے خلاف تحقیقات آئی سی سی کی میچ فکسنگ کے معاملات کی ان تحقیقات کی خبریں سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی ہیں جن میں 35 سالہ ونسنٹ کا کلیدی کردار ہے۔

اطلاعات کے مطابق ونسنٹ نے آئی سی سی کو سنہ 2008 سے 2012 کے دوران 12 میچوں میں فکسنگ کے ثبوت دیے ہیں اور وہ تحقیقات میں ادارے سے تعاون کر رہے ہیں۔

ان میچوں میں سے تین کے بارے میں خیال ہے کہ وہ انگلینڈ میں اس وقت کھیلے گئے جب ونسنٹ سسکیس اور لنکاشائر کے لیے کھیل رہے تھے۔

نوید عارف سنہ 2010 اور 2011 کے سیزنز میں سسیکس کے لیے کھیلتے رہے ہیں تاہم انھیں 2012 میں کاؤنٹی نے ریلیز کر دیا تھا جس کے بعد انھوں نے پاکستان میں چند ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں۔

ای سی بی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کو ’کرکٹ کی ایسی تمام سرگرمیوں سے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے جن کا انتظام ای سی بی، آئی سی سی نے کیا ہو یا ان کی اجازت دی ہو یا پھر بورڈ اور عالمی ادارہ ان سے منسلک ہو۔‘

Image caption نوید عارف سنہ 2010 اور 2011 کے سیزنز میں سسیکس کے لیے کھیلتے رہے ہیں

ای سی بی کے انسدادِ بدعنوانی یونٹ کے سربراہ کرس واٹس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ انتہائی پیچیدہ اور طویل تحقیقات ہیں جن کا دائرہ دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اب یہ معاملہ باقاعدہ طور پر قانونی کارروائی سے جڑ گیا ہے اور ہم اس سلسلے میں مزید بات نہیں کریں گے اور صرف اپنا یہ عزم دہراتے ہیں کہ کرکٹ کو کرپٹ کرنے والی ہر چھوٹی سے چھوٹی کوشش کو ناکام بنا دیں گے۔‘

ای سی بی کے مینیجنگ ڈائریکٹر پال ڈاؤنٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ای سی بی اسے انتہائی سنجیدہ معاملہ سمجھتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’یہ بہت فکر کی بات ہے۔ میچ فکسنگ کسی بھی کھیل کے لیے کینسر کی طرح ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ انگلینڈ میں گذشتہ پانچ برس میں کھیلے گئے میچوں میں سے چھ کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔‘

اسی بارے میں