لزبن میں میڈرڈ کا مقابلہ میڈرڈ سے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لسبن میں دونوں کلبوں کے مداحوں کی آمد پچھلے ہفتے سے شروع ہوگئ ہے

پرتگال کے شہر لزبن میں سنیچر کو یوئیفا چیمپیئنز لیگ کا فائنل کھیلا جا رہا ہے اور نو بار یورپی کلب فٹبال کا یہ سب سے بڑا ٹورنامنٹ جیتنے وال ریال میڈرڈ کا مقابلہ پہلی مرتبہ فائنل میں پہنچنے والی ایتھلیٹکو میڈرڈ سے ہے۔

ریال میڈرڈ کو جہاں اپنے تجربے اور کرسچیانو رونالڈو اور گیرتھ بیل جیسے کھلاڑیوں کی وجہ سے فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے وہیں اس برس ہسپانوی لیگ اور پھر چیمپیئنز لیگ میں ایتھلیٹکو کی کارکردگی دیکھتے ہوئے اسے آسان حریف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایتھلیٹکو واحد ٹیم ہے جس نے اس سال چیمپیئنز لیگ کے اپنے تمام میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔

میڈرڈ میں ایتھلیٹکو کے کالڈرون سٹیڈیم کے نزدیک سبزی کا سٹال لگانے والے اینٹونیو ڈورادو اپنی ٹیم کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ایتھلیٹکو کا ریال کو ہرانا بہت بڑی بات ہوگی۔

انھوں نے مذاقاً کہا کہ ایتھلیٹکو کی ریال سے جیت کے بعد وہ سکون سے قبر میں جا سکیں گے۔

فٹبال کے مداحوں میں کھیل کی بحث میں پیسوں کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ خاص کر کے میڈرڈ کے فٹبال شائقین میں، جہاں ریال میڈرڈ کے کھلاڑیوں کی سالانہ تنخواہ ایتھلیٹکو کے کھلاڑیوں کو دیے جانے والے معاوضے سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ریال کا گذشتہ سال آٹھ کڑوڑ دس لاکھ پاؤنڈ میں برطانوی کھلاڑی گیرتھ بیل کو خریدنا ایتھلیٹکو کے لیے ایک خواب سے کم نہیں

ریال کا گذشتہ سال آٹھ کروڑ دس لاکھ پاؤنڈ میں برطانوی کھلاڑی گیرتھ بیل کو خریدنا ایتھلیٹکو کے لیے ایک خواب سے کم نہیں۔

ڈورادو کہتے ہیں کہ ’ریال صرف پیسے سے بنی ہے، انھوں نے اپنی ٹیم خریدی ہے جبکہ ایتھلیٹکو کو سالوں کی محنت کے بعد تیار کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنے کھلاڑیوں پہ فخر ہے۔‘

ریال میڈرڈ کے سابق صدر ریمون کیلڈرون بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ 18 سال میں پہلی بار لا لیگا جیتنے والی ایتھلیٹکو کی کارکردگی اس سال غیر معمولی رہی ہے۔

کیلڈرون کا کہنا ہے کہ ’پیسہ سب کچھ نہیں خرید سکتا اور یہ سبق لوگوں کو ایتھلیٹکو سے سیکھنا چاہیے۔ پیسہ زندگی میں مدد ضرور کرتا ہے لیکن کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔‘

دوسری طرف نو بار چیمپیئنز لیگ، 32 بار لا لیگا اور 19 بار سپینش کنگز کپ جیتنے والی ریال کے مداحوں کے لیے یہ فائنل 12 سال بعد آیا ہے۔

ریال کے مداح اور مقامی شراب خانے کے مالک ایوین ڈیاز ڈیل کیورا کا کہنا ہے کہ ان کے لیے چیمپیئنز لیگ جیتنا لا لیگا اور سپینش کنگز کپ سے ذیادہ اہم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ریال کے مداحوں کے لیے یہ فائنل 12 سال بعد آیا ہے

ڈیل کیورا کے ساتھ ان کی گرل فرینڈ ماریا ایتھلیٹکو کی شرٹ پہن کر بیٹھی ہیں۔ میڈرڈ شہر میں ان دو کلبوں کے درمیان مداحوں کے سلسلے میں کئ خاندان کے افراد بٹے ہوئے ہیں۔

ماریا کا کہنا ہے کہ ریال اور ایتھلیٹکو کے مداحوں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اگر آپ ریال کے مداحوں کو دیکھیں تو وہ بہت متکبر نظر آئیں گے۔ وہ ہر میچ میں پاپ کورن کھاتے اور خاموشی سے تالیاں بجاتے نظر آتے ہیں۔‘

لیکن ریال کے مداح اگناسیو روئز اس بات سے پوری طرح متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریال کے مداح لا لیگا میچوں میں تو خاموش ہوتے ہیں لیکن چیمپیئنز لیگ میں وہ بہت پر جوش ہوتے ہیں۔

روئز کا کہنا ہے کہ ’ایتھلیٹکو کے مداح ریال کے لیے چھوٹے بھائی کی مانند ہیں جو کبھی بڑے نہیں ہوئے۔ ہمیں برا بھی لگتا تھا کہ وہ کوئی ٹائٹل جیت نہیں پاتے تھے۔‘

لزبن میں ہونے والے فائنل کا نتیجہ کچھ بھی ہو، میڈرڈ میں جشن کا سماں ہوگا۔ ریال جیسے بڑے کلب کے لیے ہار کا مطلب ان کی سیزن میں ناکامی کی عکاسی ہوگا جب کہ دوسری طرف پہلی بار فائنل میں پہنچنے والی ایتھلیٹکو کے لیے ہار بھی کامیابی کی مانند ہوگی۔

اسی بارے میں