کیا آئی پی ایل اپنی کشش کھو رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption بھارت میں گذشتہ چھ سال سے انڈین پریمئیر لیگ کھیلی جا رہی ہے ۔ سنہ 2008 سے شروع ہونے والی آئی پی ایل اب بہت زیادہ مقبول ہو چکی ہے

بھارت کے شہر ممبئی کے مضافات میں واقع ایک کریانے کی دکان کے باہر لوگوں کے ہجوم کی نگاہیں دکان میں موجود ایک چھوٹے ٹیلی ویژن پر جمی ہوئی تھیں۔

ٹی وی پر انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے ساتویں سیزن کے سلسلے میں ممبئی انڈینز کا میچ جاری تھا۔

ممبئی انڈینز کو میچ کی آخری گیند پر جیتنے کے لیے چار رنز درکار تھے۔

دکان کا مالک گاہکوں کو ڈیل کر رہا تھا تاہم وہ بھی ٹی وی سکرین سے آنکھیں نہیں ہٹا سکتا تھا۔

دکان کے باہر ہجوم نے اچانک ہی خوشیاں منانی شروع کر دیں کیونکہ ممبئی انڈینز نے یہ میچ جیت لیا تھا۔

بھارت میں عام طور پر اپریل اور مئی میں مقامی دکانوں کے باہر ٹی وی کے گرد اس طرح کے ہجوم کا اکھٹا نہیں ہوتا۔

بھارت میں گذشتہ چھ سال سے انڈین پریمئیر لیگ کھیلی جا رہی ہے۔ سنہ 2008 سے شروع ہونے والی آئی پی ایل اب بہت زیادہ مقبول ہو چکی ہے۔

آئی پی ایل میں جہاں بین الاقوامی اور مقامی کھلاڑیوں حصے لیتے ہیں وہیں مشہور شخصات جن میں بالی وڈ کے فنکار بھی شامل ہیں اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے میدان میں موجود ہوتے ہیں۔

بھارت میں کھیلی جانے والی آئی پی ایل تنازعات کا بھی شکار رہی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی وجہ سے متنازع بن گئی تھی اور متعدد کرکٹرز کے ساتھ ساتھ بی سی سی آئی کے اس وقت کے صدر سری نواسن کے داماد بھی اس میں ملوث پائے گئے تھے۔

گذشتہ برس آئی پی ایل کو اس وقت سب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب پولیس نے تین کھلاریوں کو سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا۔

گرفتار ہونے والوں میں چند جواری اور ایک فرانچائز کا اعلیٰ اہل کار بھی شامل تھا جن پر مبینہ طور پر سپاٹ فکسنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

گرفتار ہونے والوں میں اس وقت کے بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر این سری نواسن کے داماد اور چینئی سپر کنگ ٹیم کے نمائندے گرو ناتھ میپن بھی شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AF
Image caption بھارتی سپریم کورٹ نے رواں برس مارچ میں منصفانہ تحقیقات کے لیے این سری نواسن کو مستعفی ہونے کے لیے کہا تھا

آئی پی ایل میچوں میں سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کے معاملات کی تحقیقات کرنے والی جسٹس موکول مودگل کمیٹی نے گرو ناتھ میپن کو سٹے بازی کا قصوروار قرار دیا تھا۔

سری نواسن کے داماد گروناتھ کوگذشتہ برس ممبئی پولیس نے سٹے بازی کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور وہ بعد میں ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔

بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے رواں برس مارچ میں منصفانہ تحقیقات کے لیے این سری نواسن کو مستعفی ہونے کے لیے کہا تھا۔

کرکٹ کمنٹیٹر ایاز میمن کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور میرے خیال میں سب سے بڑا مسئلہ اس کی ساکھ کو بحال کرنا ہے۔

اگرچہ آئی پی ایل کے میچز ٹی وی پر بہت زیادہ دیکھے جاتے ہیں تاہم سنہ 2012 سے ان کے دیکھنے والوں میں بتدریج کمی آئی ہے۔

یہاں تک کہ اب اشتہارات دینے والے اور سپانسز بھی ان میچوں کے لیے پیسے دینے کے لیے تیار نہیں ہیں جتنا وہ کچھ عرصہ پہلے دینے پر آمادہ تھے۔

متعدد افراد کو یقین ہے کہ آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ سکینڈل نے اس ٹورنامنٹ کی برانڈ ویلیو کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔

انٹرٹینمینٹ اور میڈی فرم ’پرسپیٹ‘ کے جوائنٹ مینیجنگ ڈائریکٹر شینلیندرہ سنگھ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برس آئی پی ایل کے لیے بہت تباہ کن ثابت ہوئے۔

منتظمین نے آئی پی ایل کے آغاز سے اس سے منافع کمایا جس کی سب سے بڑی وجہ اس کے نشریاتی حقوق تھے تاہم اب فرنچائز کو سپانسرز اور ٹکٹوں کی فروخت پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اب کا منافع کم ہو رہا ہے۔

آئی پی ایل کی ٹیم دہلی ڈیئر ڈیویلز کے چیف ایگزیکٹو ہیمنت دعا کا کہنا ہے کہ رواں سال بہت زیادہ سخت رہا۔

ان کے مطابق رواں برس پانچ فرنچائز مارکیٹ میں سپانسرشپ کو فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ملک میں ہونے والے عام انتخابات پر کارپوریٹ کا بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوا۔

ہیمنت دعا کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل کی ٹیموں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے سپانسرشپ کے علاوہ کچھ اور بھی کرنا پڑے گا۔

ان تمام باتوں کے باوجود مارکیٹ برانڈ کے ماہرین کو یقین ہے کہ آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ سکینڈل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے باہر نکلنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

اسی بارے میں