فٹ بال ورلڈ کپ 2022، قطر کی میزبانی خطرے میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فٹبال کی گورننگ باڈی فیفا کے فیصلے کے مطابق سنہ 2022 کا فٹ بال ورلڈ کپ عرب ملک قطر میں کھیلا جانا ہے

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے تفتیش کار اور نیویارک سے تعلق رکھنے والے وکیل مائیکل گارسیا سنہ 2018 اور سنہ 2022 کے ورلڈ کپ مقابلوں کے میزبان شہروں کے انتخاب کے معاملے میں تحقیقاتی رپورٹ نو جون کو مکمل کر لیں گے اور اسے آئندہ چند ہفتوں میں فیفا کو سونپ دیا جائے گا۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے گذشتہ اتوار کو الزام لگایا تھا کہ قطر کو 2022 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کا حق دیے جانے کے لیے فیفا کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے قطری رکن محمد بن حمام نے مختلف حکام کو لاکھوں پاؤنڈز ادا کیے تھے۔

ان الزامات کے بعد قطر کی میزبانی منسوخ کرنے کے مطالبات سامنے آئے تھے جن کے تناظر میں ٹورنامنٹ کے منتظمین نے مائیکل گارسیا سے پیر کو ملاقات بھی کی۔

ملاقات کے بعد بیان میں گارسیا نے کہا ہے کہ وہ فیفا کو اپنی رپورٹ جولائی کے آخر تک بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’رپورٹ میں بولی دینے کے عمل سے متعلق تمام ثبوتوں کو مدِنظر رکھا جائے گا اور اس میں وہ ثبوت بھی شامل ہیں جو گذشتہ تحقیقات کے دوران حاصل ہوئے۔‘

قطری حمایت کے ضمن میں برطانوی اخبار کو لاکھوں خفیہ دستاویزات، ای میلز، خطوط اور بینک میں رقوم منتقل کیے جانے کے شواہد حاصل ہوئے ہیں جنھیں بی بی سی نے بھی دیکھا ہے۔

دریں اثنا فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے نائب صدر جم بوائس کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2022 میں فٹ بال کے عالمی کپ کی قطر کی میزبانی پر بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے کی صورت میں نئے میزبان کے لیے ’از سر نو ووٹنگ‘ کی حمایت کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے الزام لگایا ہے کہ قطر کو فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کا حق دیے جانے کے لیے حکام کو فیفا ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن محمد بن حمام نے لاکھوں پاؤنڈز ادا کیے تھے

قطر میں سنہ 2022 میں فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے بولی لگانے والی کمیٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ’کسی قسم کی بدعنوانی‘ کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ نیویارک سے تعلق رکھنے والے وکیل مائیکل گارسیا پہلے ہی سے سنہ 2018 اور 2022 میں منعقد ہونے والے عالمی کپ کی بولیوں کی طویل عرصے سے جانچ کر رہے ہیں۔

فٹ بال ایسوسی ایشن کے سربراہ گریگ ڈائک کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ عالمی کپ کی میزبانی میں قطر کی جیت میں بدعنوانی ہوئی ہے تو اس کے لیے پھر سے ووٹنگ ہونی چاہیے۔

برطانیہ کی وزیر کھیل ہیلن گرانٹ نے کہا کہ ’یہ ضروری ہے کہ کھیلوں کی بڑی تقریبات کی میزبانی کا فیصلہ کھلے عام اور صاف شفاف طور پر کیا جائے۔‘

سنہ 2011 میں فیفا نے محمد بن حمام اور نائب صدر جیک وارنر کے علاوہ سی ایف یو کے جیسن سیلویسٹر اور ڈیبی منگوئل کو بھی معطل کیا تھا۔ تاہم فیفا کے صدر سیپ بلاٹر کے خلاف یہ الزام ثابت نہیں ہو سکا تھا کہ انھیں اس سارے معاملے کا علم تھا۔

قطر کا موقف ہے کہ اس کا محمد بن حمام سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا۔

بی بی سی ریڈیو5 سے بات کرتے ہوئے بوائس نے کہا: ’ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے مجھے دوبارہ ووٹنگ کی حمایت کرنے میں کوئی تردد نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر کارسیا کو ٹھوس شواہد ملتے ہیں اور یہ شواہد فیفا اور اس کی ایگزیکٹیو کمیٹی کو دیے جاتے ہیں تو انھیں سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’فیفا کی ایگزیکٹیو کمیٹی صد فی صد گارسیا کے پیچھے ہے اور انھیں اپنے مشن کو پورا کرنے کے لیے دنیا میں کسی سے بھی بات چیت کی اجازت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption فیفا کے چیئرمین گیرگ ڈائک کا کہنا ہے کہ الزامات سنگین ہیں اور انھیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے

سنڈے ٹائمز کو دستیاب خفیہ دستاویزات کے مطابق محمد بن حمام نے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے قطر کے حق میں فیصلہ کرنے کے بدلے میں فیفا کے اہلکاروں کو 50 لاکھ ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔

دستاویزات کے مطابق 65 سالہ محمد بن حمام نے 2022 کی میزبانی کے فیصلے سے ایک سال پہلے ہی قطر کے حق میں فیصلے کے لیے راہ ہموار کرنی شروع کر دی تھی۔

دستاویزات کے مطابق محمد بن حمام نے افریقہ میں فٹ بال کے اہلکاروں کو براہِ راست رقم منتقل کی تاکہ مبینہ طور پر ان کی حمایت حاصل کی جا سکے۔

سنڈے ٹائمز کے مطابق نئے شواہد کی بنیاد پر جب محمد بن حمام کے بیٹے حمد عبداللہ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

سنہ 2011 میں محمد بن حمام ایسے الزامات کی سختی سے تردید کر چکے ہیں۔ اسی سال فیفا نے محمد بن حمام پر رشوت ستانی کے الزام میں تاحیات پابندی لگا دی تھی تاہم ایک سال بعد کھیلوں کی عدالت نے ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر فیفا کا فیصلہ منسوخ کر دیا تھا۔

اس فیصلے سے قبل فیفا کے معطل شدہ نائب صدر جیک وارنر نے ایک ای میل کی تھی جس میں یہ دعوٰی کیا گیا کہ محمد بن حمام نے 2022 کا ورلڈ کپ قطر کے لیے خریدا تھا۔

اسی بارے میں