ورلڈ کپ فٹ بال: فیفا قطری حکام سے تفتیش کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنڈے ٹائمز کے دعوے کے مطابق محمد بن حمام نے فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے قطر کے حق میں فیصلہ دینے کے عوض فیفا کے اہل کاروں کو 50 لاکھ ڈالر کی رقم ادا کی تھی

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے تفتیش کار مائیکل گارسیا بدھ کو قطری حکام سے ملاقات میں سنہ 2022 کے عالمی کپ کی بولی کے عمل کی قانونی حیثیت کے بارے میں الزامات کے سلسلے میں سوالات کریں گے۔

خیال رہے کہ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے گذشتہ اتوار کو الزام لگایا تھا کہ قطر کو سنہ 2022 کے فٹ بال کی عالمی کپ کی میزبانی کا حق دیے جانے کے لیے فیفا کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے قطری رکن محمد بن حمام نے مختلف حکام کو لاکھوں پاؤنڈ ادا کیے تھے۔

ان الزامات کے بعد قطر کی میزبانی منسوخ کرنے کے مطالبات سامنے آئے تھے جن کے تناظر میں ٹورنامنٹ کے منتظمین نے مائیکل گارسیا سے پیر کو ملاقات کی تھی۔

دوسری جانب قطر میں سنہ 2022 میں فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے بولی لگانے والی کمیٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ’کسی قسم کی بدعنوانی‘ کی تردید کی ہے۔

کمیٹی نے برطانوی اخبار کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا محمد بن حمام سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا۔

قطر کی جانب سے عالمی کپ کی میزبانی کی بولی لگانے والی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ گارسیا کی انکوائری سے تعاون کر رہی ہے اور وہ

قطر کی بولی کی ساکھ کے تحفظ کی ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

اس سے قبل فیفا کے تفتیش کار اور نیویارک سے تعلق رکھنے والے وکیل مائیکل گارسیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ سنہ 2018 اور سنہ 2022 کے عالمی کپ مقابلوں کے میزبان شہروں کے انتخاب کے معاملے میں تحقیقاتی رپورٹ نو جون کو مکمل کر لیں گے۔

انھوں نے کہا تھا کہ وہ تحقیقاتی رپورٹ کو آئندہ چند ہفتوں میں فیفا کے حوالے کر دیں گے۔

سنڈے ٹائمز کے دعوے کے مطابق محمد بن حمام نے فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے قطر کے حق میں فیصلہ دینے کے عوض فیفا کے اہل کاروں کو 50 لاکھ ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔

اسی بارے میں