فٹ بال ورلڈ کپ: شاطرانہ فاؤل برازیل کے لیے اہم ہو سکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیمار نے سنہ 2013 میں کھیلے جانے والے کنفیڈریشن کپ کے مقابلوں میں 17 بار فاؤل کیا تھا

فٹ بال کے ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شاطرانہ ڈھنگ اور موقعے کی مناسبت سے کھیل کے دوران فاؤل کرنا اہمیت کا حامل ہے اور اس لیے اس بار کے ورلڈ کپ میں برازیل کی بہتر کارکردگی کے امکانات زیادہ ہیں۔

واضح رہے کہ اس بار ورلڈ کپ برازیل میں منعقد کیا جا رہا ہے اور ٹیموں کی کارکردگی کے اعتبار سے برازیل کو ورلڈ کپ کے فاتح کے مضبوط دعویدار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے سپورٹس نمائندے ٹم وکری کا کہنا ہے کہ کنفیڈریشن کپ کے اعداد و شمار سے ایک دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ برازیل کے سٹرائیکر نیمار دا سلوا سب سے زیادہ فاؤل کرنے والے کھلاڑی ہیں۔

برازیل کے 22 سالہ سٹرائکر نیمار نے سنہ 2013 میں کھیلے جانے والے کنفیڈریشن کپ کے مقابلوں میں 17 بار فاؤل کیا تھا جبکہ دوسرے نمبر پر انھی کے ساتھی آسکر نے 14 بار فاؤل کیا تھا۔

نیمار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی باصلاحیت ڈربلر ہیں اور گیند کے رخ کو تیزی سے موڑنے میں ان کا توازن قابل دید ہے اور شاید اسی وجہ سے وہ مخالف ٹیم کے دفاعی کھلاڑیوں کے لیے ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔

گذشتہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں نیدرلینڈز کے ہاتھوں شکست کے بعد برازیل کے کوچ ڈونگا کو برطرف کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد ان کی جگہ مانو مینیزس کو لیا گیا تھا جنھوں نے برازیل کے کھیل کو روایتی طرز پر لانے کی کوشش کی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق برازیل کے کھیل کی خوبصورتی اور ان کی قوت جوابی حملے میں مضمر ہے، لیکن اگر مخالف ٹیم حملے نہیں کرتی تو پھر ان کی قوت کا اظہار نہیں ہو پاتا۔ اسی کے پیش نظر مینیزس نے گذشتہ عالمی کپ میں کھیلنے والی ٹیم میں اور کھیل کے انداز میں تبدیلیاں کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برازیل کے کھیل کی خوبصورتی اور ان کی قوت جوابی حملے میں مضمر ہے

انھوں نے ہی نیمار اور آسکر جیسے کھلاڑیوں کی نشاندہی کی اور ان کی شمولیت سے ایک مضبوط ٹیم بنانے کی کوشش کی تاہم بعد میں ان کی جگہ لوئی فیلپ سکولاری کو واپس بلایا گيا ہے۔

انھوں نے بھی ٹیم میں قدرے تبدیلیاں کیں اور سینٹر فارورڈ کو واپس لائے اور سینٹر بیک کے سامنے والی خالی جگہ کی ذمہ داری مڈفیلڈر گستاوو کو دی گئی۔

واضح رہے کہ انھوں نے حریف ٹیم پر مینیزس کے تیز حملے کی حمکت عملی کو رہنے دیا لیکن اس کی وجہ سے جو خلا پیدا ہو رہا تھا اسے پر کرنے کوشش کی ہے۔

سنہ 1999 میں سکولاری نے کہا تھا کہ ’معمول کے اچھے فٹ بال کے کھیل کے درمیان بعض اوقات کسی کھلاڑی کو دانستہ طور پر دھکا دینا، جرسی کھینچنا، کندھا مارنا جیسے فاؤلز کرنے پڑتے ہيں تاکہ حریف ٹیم کو منظم ڈھنگ سے گول کرنے کا موقع نہ مل سکے۔‘

موجودہ صورت حال میں برازیل کے پاس نیمار اور آسکر (یا ولیمز) کی شکل میں ایسے کھلاڑی ہیں جنھوں نے پہلی قطار کے ڈیفنس کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔ ان کے دوسرے کاموں میں حریف کے کھیل کو سست کرنا یا ان کے جوابی حملوں کو ناکام بنانا شامل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنے میں ان سے فاؤل ہو جائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔

واضح رہے کہ کنفیڈریشن کپ میں اٹلی کے خلاف میچ میں نیمار کو بدلنا پڑا تھا کیونکہ ان کو ریڈ کارڈ کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔ ایسے میں کھلاڑی اور ریفری دونوں پر زبردست دباؤ ہوتا ہے۔

برازیل میں جب فٹ بال کا بخار اپنے عروج پر ہوگا ایسے ماحول میں برازیل کی ٹیم پر میزبان ہونے کی حیثیت سے اور ریفری کو فیصلہ کرنے پر خاصا دباؤ ہوگا۔

اسی بارے میں