تمل پناہ گزین کرکٹ میں پناہ کے متلاشی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان افراد کی زندگی کچے دھاگے سے لٹک رہی ہے اور انھیں صرف ایک فون کال کے ذریعے شہر بدر کیا جا سکتا ہے

اوشیئن 12 ایک انوکھی کرکٹ ٹیم ہے، جس نے پیڈ اور ہمت باندھ رکھی ہے اور وہ سڈنی لیگ میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔

یہ ٹیم تمل پناہ گزینوں پر مشتمل ہے جو کرکٹ کے عالمی کپ مقابلوں کے فائنل میں حصہ لینا چاہتی ہے۔

نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل یہ ٹیم ایک کشتی کے ذریعے آسٹریلیا پہنچی۔ انھیں عارضی ویزے پر رہا کیا گیا ہے اور اب وہ بے چینی سے اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کی پناہ کی درخواست منظور ہو جائے۔

اس ٹیم میں سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ایک کھلاڑی اتھایاکمار بھی ہیں۔ کمار تیز بولر ہیں۔

کمار کی کہنی پر اس وقت چوٹ آئی تھی جب ان کے سکول پر حملہ ہوا۔ جسمانی زخموں کے علاوہ تکلیف دہ ماضی کی نشانی کے طور پر نفسیاتی زخم بھی عرصے تک قائم رہتے ہیں۔

26 سالہ سٹیون کا کہنا ہے کہ وہ سری لنکا واپس نہیں جا سکتے: ’یہ سوچ کر ہی میں پاگل ہو جاتا ہوں۔‘

سٹیون نے اکتوبر سنہ 2012 میں کشتی کے ذریعے آسٹریلیا آنے سے پہلے 18 ماہ انڈونیشیا میں گزارے۔ انھوں نے آسٹریلیا آنے کے لیے سمگلروں کو پیسے دیے اور بالآخر وہ آسٹریلیا پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

سٹیون نے مترجم کے ذریعے بتایا: ’مجھے کشتی کے ذریعے آسٹریلیا پہنچنے میں 18 دن لگے، پہلے چند دن بہت زیادہ مشکل تھے۔ میں قے کر رہا تھا اور کچھ کھا نہیں پا رہا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انھیں عارضی ویزے پر رہا کیا گیا ہے اور اب وہ بے چینی سے اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کی پناہ لینے کی درخواست منظور ہو جائے

سٹیون کے مطابق: ’جب میں نے آسٹریلیا کی بحریہ کو دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ مجھے نئی زندگی ملی ہے۔‘

ان افراد کی زندگی کچے دھاگے سے لٹک رہی ہے اور انھیں صرف ایک فون کال کے ذریعے شہر بدر کیا جا سکتا ہے۔

ان افراد کے لیے ذہنی دباؤ کو کم کرنے کا بہترین ذریعے کرکٹ ہے۔ سڈنی لیگ کے مینیجر دینو راجارتنم کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے ذریعے انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کمیونٹی کا حصہ ہیں۔

دینو راجارتنم کے مطابق: ’ کرکٹ کھیلتے ہوئے وہ سب برابر ہوتے ہیں، انھیں چھکا، چوکا لگانے اور وکٹ حاصل کرنے کا ایک جیسا موقع ملتا ہے۔‘

سڈنی انسٹی ٹیوٹ کے تھنک ٹینک جیراڈ ہینڈرسن کا کہنا ہے: ’حکومت نہیں چاہتی کہ لوگ غیر قانونی طریقے سے آسٹریلیا آئیں، یا پھر راستے میں ڈوب جائیں۔‘

انھوں نے کہا: ’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ لوگ سمگلروں کی بجائے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں (یو این ایچ سی آر) کے ذریعے آسٹریلیا آئیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں سرحدی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے، تاہم مہاجرین کی قانونی طریقے سے آمد کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی تشویش نہیں ہے۔

لاسٹ مین سٹینڈز کے راب سٹیونسن نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ نوجوان تمل اپنا رویہ بدلنے میں مدد دے رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ آسٹریلیا کے سفید کھلاڑی ان پناہ گزینوں کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے ہیں۔

راب سٹیونسن کے مطابق ہمیں دوسری ٹیموں سے بہت زیادہ فیڈ بیک ملتی ہے جو ان پناہ گزین کھلاڑیوں سے کھیلتی ہیں۔

ان پناہ گزینوں کی ٹیم بلیو ماؤنٹین رفیوجی سپورٹ گروپ کی مدد سے بنائی گئی۔

بلیو ماؤنٹین رفیوجی سپورٹ گروپ کی برطانوی خاتون ترجمان این میری کلفٹن کا کہنا ہے کہ روزمرہ زندگی کی غیر یقینی کے باجود کرکٹ ان پناہ گزین کھلاڑیوں کی زندگی پر اچھا اثر ڈال رہی ہے۔

انھوں نے بتایا: ’جب ہم نے ان کے ساتھ کھیلنا شروع کیا تو وہ صحیح طریقے سے بات چیت نہیں کر سکتے تھے تاہم اب وہ اچھی طرح بات کر سکتے ہیں اور وہ بہت زیادہ پر اعتماد ہو گئے ہیں۔‘

اسی بارے میں