فٹبال ڈائری:صدر کی جگہ سپر ماڈل اور ’بدمزاج‘ میسی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برازیل ہی نہیں جسیل دنیا بھر میں مشہور ہیں

فٹ بال ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو فیفا ٹرافی برازیل کی صدر نہیں بلکہ ملک کی سپر ماڈل جسیل بنشن کے ہاتھوں ملے گی۔

اس کے لیے ریو ڈی جنیرو کے ماراكانا سٹیڈیم میں 13 جولائی کو شاندار اختتامی تقریب منعقد کی جائےگی۔

برازیل ہی نہیں بلکہ یہ خوبصورت اور پر کشش ماڈل دنیا بھر میں کافی مقبول ہیں۔ عالمی سطح پر کئی مصنوعات کی تشہیر کرنے کے ساتھ ساتھ ریمپ پر بھی ان کے جلوے کافی مشہور رہے ہیں۔

كلاڈيا شفر اور نومی کیمبیل جیسی ماڈلنگ کی دینا کی معروف ہستیوں نے بنشن کو دنیا کی ’واحد سپر ماڈل‘ کا درجہ دیا ہے۔

پہلے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ برازیل کی صدر جیلما روسیف فاتح ٹیم کو فیفا ٹرافی دیں گي کیونکہ گذشتہ ورلڈ کپ میں فيفا کے صدر سیپ بلیٹر نے ہی ٹرافی سپین کے کپتان آئیکر كیلی لاس کے ہاتہ میں دی تھی۔

محض افواہیں ہیں، میسی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption میرے اپنے بھتیجے اور بیٹے بھی ہیں، میں ایک بچے کے ساتھ ایسا کبھی نہیں کر سکتا: میسی

ارجینٹینا کے سٹار کھلاڑی ليونیل میسی نے ان الزامات سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک پرستار بچے کو نظر انداز کیا تھا۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ کبھی کسی بچے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

میسی نے کہا ’میں نے سنا ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ میں ایک چھوٹے بچے سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔ یہ پاگل پن ہے۔ میں کس طرح ایک بچے سے نہیں ملنا چاہوں گا؟ مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت میں کیا سوچ رہا تھا۔ اس بات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ میرے اپنے بھتیجے اور بیٹے بھی ہیں، میں ایک بچے کے ساتھ ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔‘

میسی نے بھلے ہی اپنی پوزیشن واضح کر دی ہو لیکن سوشل میڈیا میں اب بھی ان پر نکتہ چینی جاری ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ میسی کو اس بچے کے پاس جا کر اس سے ملنا چاہیے تھا۔

فٹبال کوریو گرافی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہی کپڑے جنوبی کوریا کے حامیوں کی شناخت بن گئے

منگل کو روس اور جنوبی کوریا کے درمیان میچ شروع ہونے کے تقریبا دو گھنٹے پہلے ہی سٹیڈیم کے ایک گیٹ کے سامنے خاصی بھیڑ جمع ہوگئی تھی۔

اس نمائندے معلوم ہوا کہ یہ بھیڑ مفت کپڑے لینے کے لیے جمع ہوئی تھی۔ یہ کپڑے جنوبی کوریا کا ایک گروپ تقسیم کر رہا تھا۔ گروپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کھیل شروع ہونے سے پہلے 14000 امریکی ڈالر کے کپڑے مفت تقسیم کرےگا۔

یہ کوریا کی سرخ رنگ کی ایک خاص پوشاک تھی جس پر خوبصورت کڑھائی کا ڈیزائن بنا ہوا تھا۔

ان میں سے کچھ لباسوں پر برازیل کا پرچم بنا تھا جبکہ کچھ پر ان کے ملک کا نام بھی چھپا ہوا تھا۔ میچ کے دوران یہی کپڑے جنوبی کوریا کے حامیوں کی شناخت بن گئے۔

اسی گروپ نے سٹیڈیم میں موسیقی کی محفل بھی سجائی اور پھر مفت کپڑے پانے والے تمام لوگوں سے تھركنے کو کہا گیا۔ اسے کہتے ہیں ’فٹ بال كوريوگرافي۔‘

آخر فولیكو ہے کہاں؟

ورلڈ کپ کا بخار ہر روز بڑھتا جا رہا ہے اور پورا برازیل اور جنوبی امریکہ اس خمار میں ڈوبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ورلڈ کپ کے میسکاٹ (علامتی جانور ) فولیكو کے حوالے سے تعجب میں ہیں۔

برازیل کی یہ خطرے سے دوچار معروف مخلوق افتتاحی تقریب کے دوران ہی ندارد تھی اور جن سٹیڈیم میں میچ ہو رہے ہیں ان میں سے کئی میں یہ نظر نہیں آیا۔

کچھ لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ میسکاٹ کے تعلق سے فيفا خود پریشان ہے کیونکہ وہ خطرے سے دوچار جانوروں کو بچانے والے کنزرویشن گروپوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کر پایا۔

اطلاعات کے مطابق اپنے قدرتی ماحول میں خطرے سے دوچار ایسی نسلوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے كاٹگا نے اس سلسلے میں فيفا کی تجویز مسترد کر دی تھی۔

اسی بارے میں