بزرگ بھارتی جوڑے کا نواں ورلڈ کپ

Image caption سٹیڈیم میں بیٹھ کر فٹبال ورلڈ کپ کے میچ دیکھنے کے احساسات ناقابلِ بیان ہیں:چیتالی چیٹر جی

’لوگوں کو طرح طرح کے شوق ہوتے ہیں، بعض شراب پینے کا شوق رکھتے ہیں تو بعض ٹی وی اور فلم کے رسیا ہوتے ہیں۔ ہمیں تو بس فٹ بال کا جنون ہے جس کے لیے ہم کھانا پینا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔‘

یہ الفاظ ہیں بھارتی شہر کولکاتہ کے 81 سالہ پنّا لال چیٹرجی کے جو اپنی بزرگ اہلیہ چیتالی چیٹرجی کے ساتھ نویں بار فٹ بال ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے برازیل جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

یہ بزرگ جوڑا اب سے 32 برس قبل پہلی بار فٹ بال کا ورلڈ کپ دیکھنے سپین گیا تھا اور تب سے اب تک جتنے بھی ورلڈ کپ ہوئے ہیں اس میں شرکت کے لیے امریکہ، اٹلی، جرمنی، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کا سفر کر چکا ہے۔

کولکاتہ میں اپنی رہائش گاہ پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہوئے پنّا لال چیٹر جی نے کہا ’سنہ 1982 میں جب ہم نے پہلی بار سٹیڈیم میں بیٹھ کر میچ دیکھا تو اس کے حسین مناظر کے تجربات نے ہمیں دم بخود کر دیا۔ تبھی ہم نے ہر ورلڈ کپ میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

چیتالی چیٹرجی کہتی ہیں ہر چار برس میں سٹیڈیم میں بیٹھ کر فٹبال ورلڈ کپ کے میچ دیکھنے کے احساسات ناقابلِ بیان ہیں: ’بہت اچھا لگتا ہے۔ ٹی وی پر کیمرہ صرف گیند کے پیچھے رہتا ہے، کھلاڑیوں کی حکمت عملی یا ان کی چال کی پوری تصویر نہیں مل پاتی۔‘

صرف ورلڈ کپ ہی نہیں بلکہ فٹبال سے اس جوڑے کا لگاؤ ایسا ہے کہ مقامی سطح پر بھی وہ کوئی میچ نہیں چھوڑتے اور دور دور تک پیدل چل کر بھی میچ دیکھنے جاتے ہیں۔

برازیل میں جاری ٹورنامنٹ اس بزرگ جوڑے کا سٹیڈیم میں بیٹھ کر ورلڈ کپ دیکھنے کا نواں تجربہ ہوگا جس کے لیے وہ چار برس انتظار اور تیاری کرتے ہیں۔

چیتالی کہتی ہیں ’ہم اس کے لیے پیسہ بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ کئی بار تو ہم مہینہ بھر تک مچھلی نہیں کھاتے اور کھانے کی جگہ متبادل اشیاء استعمال کرتے ہیں۔ کئی بار ہم صرف چائے سے ہی کام چلا لیتے ہیں۔‘

پنّا لال کا کہنا ہے کہ ’کھانا ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہے، بس کھیل دیکھنے کا جنون سوار رہتا ہے۔‘

چیتالی کی ورلڈ کپ کے مقابلوں سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’سنہ 1986 میں میکسیکو میں میراڈونا کو دیکھ کر حیران رہ گئی کہ کس طرح وہ تن تنہا ایک پوری ٹیم کے مضبوط دفاع کو توڑ سکتا ہے۔‘

دونوں میاں بیوی فٹ بال کے شوقین ہیں اور دونوں کی پسند بھی الگ الگ ہے۔

بی بی سی سے بات چیت میں جب چیتالی میراڈونا کی تعریف کر رہی تھیں تو پنّا لال بول پڑے: ’میرے خیال میں زیدان بہت بہتر ہے۔‘

اس پر چیتالی نے کہا ’نہیں، نہیں میراڈونا ہی سب سے اچھا ہے، اس کا کوئی جواب نہیں۔‘

اسی بارے میں