برازیل میں ’ہر کوئی کوچ بنا پھرتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ

برازیل میں جاری عالمی فٹبال کپ کے میلے اور ہنگامے میں کسی بھی صحافی کے لیے اس سے بڑی خبر کیا ہو سکتی ہے کہ اسے میزبان برازیلی ٹیم کا کوچ مل جائے اور وہ اسے انٹرویو دینے پر راضی بھی ہو جائے۔ یعنی صحافت کی دنیا کا ایک بڑا ’سکُوپ‘۔

برازیل کے مشہور کالم نگار اور ٹی وی میزبان ماریو سرگیو کونٹی کی ’صحافیانہ‘ قسمت بھی گذشتہ بدھ کو اس وقت جاگ گئی جب وہ ریو ڈی جنیرو سے ساؤ پالو جانے کے لیے طیارے میں سوار ہوئے اور انھیں پتہ چلا کہ ان کے ساتھ کی نشست پر کھیلوں کی دنیا کی جانی پہچانی شخصیت، یعنی دنیا بھر میں برازیل کے جانے پہچانے کوچ لُوئیز فلپی سکولاری بیٹھے ہوئے ہیں۔

برازیل میں لوگ سکولاری کو پیار سے فلیپاؤ بھی کہتے ہیں۔

فلیپاؤ نے ماریو کونٹی کے چند سوالوں کے جواب دیے اور چند ہی گھنٹوں بعد برازیل کے دو بڑے اخباروں کے ویب سائٹس پر یہ انٹرویو شائع بھی ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سکولاری یا ولادامیر پالومی؟ آپ ہی بتائیں دھوکہ کیوں نہ ہو

لیکن اس میں ایک تھوڑا سا مسئلہ ہوگیا کیونکہ انھوں نے جس شخص کا انٹرویو لیا تھا وہ سکولاری نہیں بلکہ سکولاری سے بہت مشابہت رکھنے والے ٹی وی کے مزاحیہ اداکار ولادامیر پالومو تھے۔ وہ ریو ڈی جنیرو سے ایک مزاحیہ پروگرام میں حصہ لینے کے بعد واپس آ رہے تھے جس میں ولادامیر پالومو برازیلی کوچ سکولاری کی ہی نقل اتارتے ہیں۔

جعلی انٹرویو کی خبر کو برازیل کے سوشل میڈیا پر خوب اچھالا گیا اور لوگ اس خبر سے اس قدر لطف اندوز ہوئے کہ جب جمعرات کو مذکورہ اخبار نے وضاحت شائع کی کہ اصل میں کیا ہوا تھا، تو یہ خبر برازیل میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبر بن گئی۔

جب ولادامیر پالومو سے پوچھا گیا کہ انھوں نے خود کو سکولاری کے طور پر کیوں پیش کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھے کہ مشہور صحافی کونٹی کو پتہ تھا کہ وہ برازیلی کوچ سے بات نہیں کر رہے بلکہ ان کے ہمشکل اداکار سے بات کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برازیل نے سنہ 2002 کا ورلڈ کپ لُوئیز سکولاری کی رہنمائی میں ہی جیتا تھا

دوسری جانب جب ماریو کونٹی سے اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا: ’یہ ایک غلطی تھی۔ یقین کریں، میں یہی سمجھا کہ وہ شخص سکولاری ہی ہیں۔ لیکن میری نیت بالکل صاف تھی۔ آپ یہ تو مانیں گے کہ میری اس غلطی سے نہ تو برازیل میں عام انتخابات پر کوئی منفی اثر پڑا ہے اور نہ ہی بازار حصص کی قیمتوں میں کوئی بھونچال آیا ہے۔‘

ٹی وی میزبان پالومو کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا انٹرویو لیا جا رہا ہے کیونکہ صحافی نے اپنا کوئی تعاف نہیں کرایا اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ برابر میں بیٹھا ہوا شخص ورلڈ کپ کے حوالے سے ان سے محض گپ شپ لگا رہا ہے۔ ’جب ہم ساؤ پالو کے ہوائی اڈے پر اترگئے تو اس شخص نے بتایا کہ وہ ایک صحافی ہے۔‘

’جہاں تک میرا تعلق ہے، میں تو ورلڈ کپ اور اپنی قومی ٹیم کے بارے میں اپنی ذاتی رائے دے رہا تھا جیسے ہر کوئی کر رہا ہے۔ ورلڈ کپ کے دنوں میں برازیل میں ہر شخص ہی کوچ بنا ہوتا ہے!‘

اس ساری غلط فہمی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب ساؤ پالو میں کونٹی نے بتایا کہ وہ ایک صحافی ہیں تو ولادامیر پالومو نے انھیں اپنا وزیٹننگ کارڈ بھی دیا، جس پر صاف لکھا تھا:’ولادامیر پالومو۔۔ سکولاری کا ہم شکل۔‘

اسی بارے میں