’پاکستان آئی سی سی کا چوتھا اہم رکن بن گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جب آئی سی سی میں بگ تھری کا یہ نیا انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا تھا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے چیئرمین ذکا اشرف نے اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے میلبرن میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جون 2015 سے ایک سال کی مدت کے لیے آئی سی سی کا سربراہ پاکستان سے ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا دعویٰ ہے کہ آئی سی سی کے اس سالانہ اجلاس میں اس اجلاس میں پاکستان کو بہت سی کامیابیاں اور مراعات حاصل ہوئی ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو آئی سی سی میں بگ فور کیٹیگری مل گئی ہے یعنی پاکستان کو آئی سی سی کے بگ تھری ممالک بھارت انگلینڈ اور آسٹریلیا کے بعد چوتھے ملک کی حیثیت دے دی گئی ہے۔

پی سی بی کے مطابق آئی سی سی کو اگلے آٹھ سال میں نشریات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے بعد پاکستان کو سب سے زیادہ حصہ ملے گا۔

پاکستان اور بھارت کے کرکٹ بورڈوں نے اس سال کے آغاز میں دونوں ممالک کے درمیان چھ دو طرفہ سیریزوں کے لیے جس مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے اب اس کو ایک باقاعدہ معاہدے کی شکل دے دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نجم سیٹھی کا دعویٰ ہے کہ آئی سی سی سے جو مراعات حاصل کی گئی ہیں وہ باقائدہ محنت اور بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہیں

پی سی بی کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی ان چھ دو طرفہ کرکٹ سیریزوں میں پاکستان چار کی میزبانی کرے گا اور حالات کے مطابق یہ سیریز پاکستان یا پھر متحدہ عرب امارات میں کھیلی جائیں گی۔

یہ چھ کرکٹ سیریزیں سنہ 2015 سے 2023 تک کے لیے آئی سی سی کے فیوچر ٹورز پروگرام کا حصہ ہوں گی۔

میلبرن میں ہونے والے آئی سی سی کے اس سالانہ اجلاس میں آئی سی سی کے نئے آئین کے مطابق بننے والے انتظامی ڈھانچے کی منظوری کے بعد بھارت کے این سری نواسن آئی سی سی کے پہلے چیئرمین بن گئے ہیں۔ این سری نواسن کو بھارتی سپریم کورٹ نے بد عنوانی کے معاملات کی آزادانہ تحقیقات کے لیے بی سی سی آئی کی صدارت سے عارضی طور پر ہٹا رکھا ہے تاہم وہ اجلاس کے دوران پرزور طریقے سے یہ کہتے رہے کہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

یاد رہے کہ جب آئی سی سی میں بگ تھری کا یہ نیا انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا تھا تو دنیائے کرکٹ میں اس پر سخت تنقید کی گئی تھی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے چیئرمین ذکا اشرف نے اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا۔ اس کے بعد ذکا اشرف کو ہٹا کر نجم سیٹھی کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین لگا دیا گیا تھا۔

نجم سیٹھی کا دعویٰ ہے کہ آئی سی سی سے جو مراعات حاصل کی گئی ہیں وہ باقاعدہ محنت اور بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔

اسی بارے میں