اطالوی کھلاڑی کو کاٹنے کی سزا، سواریز’ورلڈ کپ سے باہر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لوئس سواریز کو کاٹنے پر اس سے پہلے بھی دو مرتبہ سزا ہو چکی ہے

فٹبال کے عالمی ادارے فیفا نے یوروگوائے کے مشہور کھلاڑی لوئس سواریز کو اطالوی کھلاڑی کو کاٹنے پر 9 انٹرنیشنل میچوں کی پابندی، جرمانے اور چار ماہ تک فٹبال سرگرمیوں سے دور رہنے کی سزا سنائی ہے جو ایک ریکارڈ سزا ہے۔

فیفا نے اس سلسلے میں ایک آزاد کمیٹی تشکیل تھی جس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 27 سالہ لوئس سواریز کو یہ سزا میچ کے دوران نامناسب حرکت کرنے پر دی گئی ہے۔

اگلے نو میچ نہ کھیل سکنے کی پابندی کے نتیجے میں سواریز اب اس ورلڈ کپ میں نہیں کھیل سکتے اور چار ماہ کی پابندی کی وجہ سے وہ اپنے کلب لیور پول کے لیے انگلش پریمیئر لیگ کے پہلے نو میچ بھی نہیں کھیل پائیں گے۔

سواریز پر ایک لاکھ سوئس فرانک جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے جو تقریباً 66 ہزار برطانوی پاؤنڈ کے مساوی بنتا ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو ورلڈ کپ کے گروپ ڈی کے ایک میچ میں سواریز نے مخالف کھلاڑی کو دانتوں سے کاٹا تھا۔

اس سے قبل فٹبال کی عالمی تنظیم نے سواریز اور یوروگوائے کی فٹبال ٹیم کو نوٹس دیتے ہوئے بدھ کی شب نو بجے تک جواب دینے کا وقت دیا تھا۔

تفصیل کے مطابق فیفا کی انضباطی کمیٹی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ لوئس سواریز پر نو میچوں کی پابندی کا اطلاق یوراگوئے کے اگلے میچ سے شروع ہو جائے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ سواریز اس سنیچر کو کولمبیا کے خلاف میچ میں شامل نہیں ہوں گے۔

کمیٹی کے چیئرمین کلاؤڈیو سلسر نے کہا کہ ’ایسا رویہ فٹبال کے کسی بھی میدان میں کبھی بھی قابلِ قبول نہیں ہے اور خصوصاً ایک فیفا فٹبال ورلڈ کپ میں جب کروڑوں آنکھیں اس کھیل کے کھلاڑیوں پر جمی ہوتی ہیں۔

انضباطی کمیٹی نے تمام حالات و واقعات کا جائزہ لیا اور سواریز کے جرم کو اس تناظر میں دیکھا گیا اور یہ سزا جیسے ہی سنائی جائے گی اسی لمحے سے لاگو ہوگی۔‘

انضباطی کمیٹی نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ فیفا کے ڈسپلنری کوڈ کی شق نمبر 22 کے تحت لوئس سواریز چار ماہ تک فٹبال سے متعلق کسی بھی قسم کی انتظامی یا دوسری سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے، جبکہ آرٹیکل 21 کے تحت سواریز اس عرصے کے دوران فٹبال کے کسی بھی میدان میں داخل نہیں ہو سکتے بمشول اس میدان کے جہاں یوراگوئے کی قومی ٹیم کوئی میچ کھیل رہی ہو گی۔

واضح رہے کہ اٹلی اور یوروگوائے کے مابین جب میچ بغیر کسی گول کے برا بر تھا تو لوئس سواریس نے میچ کے 79ویں منٹ میں اٹلی کی ڈی کے اندر اپنا منہ جیورجیو چیلینی کے کاندھے پہ مارا تھا۔

چیلینی فوراً زمین پر گرگئے اور پھر اٹھ کر کاندھے سے شرٹ کو نیچے کر کے میچ ریفری کو بتانے کی کوشش کی کہ سواریز نے ان کے کاندھے پر کاٹا ہے۔

میچ ریفری نے اس معاملے کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔ یہاں تک کہ جب اٹلی کے کھلاڑی جیورجیو اپنے کندھے سے شرٹ نیچے کر کے گراونڈ پر بیٹھے تھے تو اٹلی کے کھلاڑی ریفری مارکو روڈریگز کو بتانے کی کوشش کرتے رہے کہ سواریس نے کیا کیا ہے لیکن ریفری نے ان کی نہ سنی۔

اسی دوران یوروگوائے کے فاروڈ گاستون رامیریس نے جیورجیو چیلینی کی شرٹ نیچے کرنے کی کوشش کی۔

چیلینی نے میچ کے بعد اٹلی کے ٹی وی چینل رائے ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سواریس کو ریڈ کارڈ نہ دکھانے کا فیصلہ مضحکہ خیز تھا۔ اس کا زمین پر گر جانا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اسے بہت اچھی طرح معلوم تھا کہ اس نے کچھ ایسا کیا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘

اسی بارے میں