برازیل: پیلی اور سبز قمیص مقدس کیوں؟

برازیلی ٹیم کی قمیض تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption برازیلی ٹیم کی پیلی قمیض جو اب کھلاڑیوں کے لیے تقدیس اور ذمہ داری کی علامت بن گئی ہے

برازیلی کھلاڑی جب اپنی پیلی ور سبز قمیص پہن کر میدان میں اترتے ہیں تو فٹبال کے لیے دیوانی برازیلی قوم تو ان سے ہر میچ میں فتح کی توقع رکھتی ہے لیکن ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہوتی جو دنیا بھر میں اس قمیص کو دیکھتے ہی یقین کر لیتے ہیں کہ انھیں کہ انھیں یقیناً اچھا کھیل دیکھنے کو ملے گا۔

بڑے کھلاڑیوں اور ان کے کھیلنے کے شاندار طریقوں نے اس دورنگی قمیص کو کھیل کے لطف کی عالمی علامت بنا دیا ہے۔

انھی کھلاڑیوں نے برازیل اور فٹبال کے اچھے کھیل کو ایسے یکجان کیا ہے کہ بہت سے لوگ تو برازیل کے معنی ہی اچھی فٹبال سمجھنے لگے ہیں اور یہ کچھ غلط بھی نہیں ہے۔

پیلے، جرزینوہو، زیکو اور سکروتیس دنیا کے وہ کھلاڑی ہیں جنھوں نے بیسویں صدی کے نصف میں فٹبال کے کھیل کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

برازیل کے لیے 1970 کا عالمی فٹبال کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان کارلوس البرتو کا کہنا ہے: ’برازیلیوں کے لیے پیلی قمیص مقدس ہے۔ جب ہم اسے پہنتے ہیں تو ہمارے دل فخر اور ذمہ داری سے بھر جاتے ہیں، متحرک کرنے اور خوشیاں دینے کی ذمے داری سے۔‘

کالر اور آستینوں پر سبز بارڈر والی پیلی قمیص، سفید دھاری والی نیکر اور سفید موزے وہ امتیازی شناخت ہیں جس سے کسی اور ٹیم کا دھوکہ ہو ہی نہیں سکتا۔

ان دنوں ساؤپولو، سان دیاگویا سلاؤ، فورٹیلیزا، فرینکفرٹ یا فورٹ ولیمز کہیں بھی جائیں، آپ کو یہ رنگ پہنے ہوئے ہر عمر کے لوگ دکھائی دیں گے اور ان میں سے اکثر کی قمیصوں کی پشت پر آپ کو دس کا نمبر بھی دکھائی دے گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یہ بھی جانتے ہوں کہ برازیل کی ٹیم نے یہ پیلی قمیص پہننا کیوں شروع کی یا یہ کہ وہ وقت بھی تھا جب برازیلی ٹیم کی قمیص کا رنگ پیلا نہیں تھا۔

اس رنگ کی کہانی ماضی میں 1950 کے عالمی کپ تک جاتی ہے جب یوروگوائے نے برازیل ہی میں ہونے والے فائنل میں برازیل کو دو ایک سے شکست دی تھی۔

تب تک برازیلی ٹیم نیلے کالر والی سفید قمیص، سفید نیکر اور سفید موزے پہنتی تھی اور یہ رنگ برازیل کے قومی پرچم سے ہم آہنگ نہیں تھے۔

برازیل کے قومی پرچم میں سبز اُس کے وسیع تر جنگلوں، سنہری پیلا ملک کی خام دولت اور اس کے ساتھ نیلا گلوب اور سفید ستارے تھے جو ریو کی راتوں کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

نئی یونی فارم کی تحریک اخبار ’کوریو ڈی لا مانہا‘ نے 1953 میں شروع کی۔ اسی اخبار نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ فٹبال یونیفارم کو قومی پرچم سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اسی کے بعد برازیلی ٹیم نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے 1954 کے عالمی کپ یہ نئی وردی زیب تن کی۔

الدیر گارشیا شیلے تب اخبار کے السٹریٹر تھے۔ انھوں نے ان چار رنگوں پر مشتمل سو کے لگ بھگ نمونے بنائے اور آخر مختلف ڈیزائنروں کے بنائے ہوئے 401 میں سے شیلے کے موجودہ ڈیزائن کا انتخاب ہو گیا۔

اسی رنگ میں برازیل نے پہلی بار ورلڈ کپ جیتا اور اب تک ان کامیابیوں کی تعداد پانچ ہو چکی ہے۔ 58، 62، 70، 94 اور 2002 میں برازیل نے بالترتیب سویڈن، چیکوسلواکیہ، اٹلی کو دو بار اور جرمنی کو شکست دی۔

اسی بارے میں