ورلڈ کپ فٹبال: کون روزہ رکھ رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سوئٹزرلینڈ کی ٹیم میں چھ مسلمان کھلاڑی ہیں جن میں ڈیفینڈر فلپ سیندیوروس نے دو سال ہوئے مانچسٹر کے اسلامک سینٹر میں اسلام قبول کیا ہے

1986 کے بعد برازیل میں جاری حالیہ فٹبال ورلڈ کپ پہلا ورلڈ کپ ہے جس کے دوران رمضان کا مہینہ آیا ہے، تاہم برطانیہ کے تقریباً 19 گھنٹے کے مقابلے برازیل میں یہ روزہ صرف 11 گھنٹے کا ہے۔

عالمی کپ میں شرکت کرنے والی غیر مسلم ممالک کی ٹیموں میں بھی متعدد مسلمان کھلاڑی کھیل رہے ہیں تاہم ورلڈ کپ جیسے سخت اور مشکل مقابلے کے دوران بعض کھلاڑیوں نے روزے نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں جرمنی کے مشہور فٹبالر مسعود اوزیل اور فرانس کے بکری سنیا شامل ہیں۔

عالمی کپ میں شریک الجزائر کی ٹیم کے منیجر واحد خلیل ہودچ اس بات پر سخت برہم ہیں کہ ان سے بار بار یہ سوال کیوں کیا جارہا ہے کہ ان کی ٹیم کے کتنے کھلاڑی روزے رکھیں گے؟

ہودچ کا کہنا ہے کہ روزے رکھنا کسی بھی شخص کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا احترام کیا جانا ضروری ہے۔

بوسنیا سے تعلق رکھنے والے ہودچ نے الجزائر کے ان اخبارات کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جنھوں نے ان پر تنقید کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان نقادوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ بھی مسلمان ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بیلجیئم کی ٹیم میں مروین فلیانی، موسی دمبیلے اور عدنان جنوزاد تین مسلمان کھلاڑی شامل ہیں

آئیوری کوسٹ کی ٹیم اگرچہ عالمی کپ سے باہر ہو چکی ہے لیکن اس کے کھلاڑی کولو طورے نے یہ طے کر رکھا تھا کہ وہ میچوں کے دوران بھی روزے رکھیں گے۔

کولو طورے کا کہنا ہے کہ رمضان کے ابتدائی چند روزے مشکل ہوتے ہیں لیکن پھر آپ کا جسم عادی ہو جاتا ہے۔

طورے کہتے ہیں کہ ان کے لیے روزہ رکھ کر فٹبال کھیلنا نئی بات نہیں ہے البتہ وہ رمضان کے دوران ڈاکٹر اور ٹرینر کی خاص ہدایات پرسختی سے عمل کرتے ہیں۔

کولو طورے کے بھائی یحییٰ طورے بھی آئیوری کوسٹ سے کھیلتے ہیں اور ان کا خیال بھی اپنے بھائی سے مختلف نہیں۔

فرانس کی ٹیم میں شامل مسلمان کھلاڑیوں میں کریم بینزیما، مامدو سکو، بکری سنیا اور موسیٰ سیسو کو شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرانس کی ٹیم میں کریم بینزیما کے علاوہ بھی مسلمان کھلاڑی ہیں

بوسنیا کی ٹیم میں اکثریت مسلمان کھلاڑیوں کی ہے جن میں قابل ذکر مانچسٹرسٹی سے کھیلنے والے ایڈن زیکو ہیں تاہم یہ ٹیم بھی عالمی کپ سے باہر ہو چکی ہے۔

بیلجیم کی ٹیم میں تین مسلمان کھلاڑی مروین فیلیانی، موسی دمبیلے اور عدنان جنوزاد شامل ہیں۔فیلیانی اور جنوزاد انگلش کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

بیلجیئم کا پری کوارٹرفائنل میں امریکہ سے مقابلہ ہونے والا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی ٹیم میں بھی چھ مسلمان کھلاڑی موجود ہیں جن میں دفاعی کھلاڑی فلپ سیندیروس نے دو سال ہوئے مانچسٹر کے اسلامک سینٹر میں اسلام قبول کیا تھا۔

سوئٹزر لینڈ کی ٹیم پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن کے مد مقابل ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الجزائر کی ٹیم کے تمام کھلاڑی جبکہ بوسنیا کی ٹیم میں بیشتر کھلاڑی مسلمان ہیں

اسی بارے میں