فٹبال کی دنیا میں کس کا پلڑا بھاری؟

برازیل میں منعقد ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں اب تک کے مقابلے شائقین کی امیدوں پر کھرے اترے ہیں۔

دنیا بھر میں فٹبال کا کھیل پسند کرنے والے کروڑوں افراد اس ٹورنامنٹ کے برازیل میں انعقاد کے منتظر تھے تاکہ وہ دیکھیں کہ فٹبال کو’مذہب‘ سمجھنے والے اس ملک میں کس جوش اور جذبے سے یہ ٹورنامنٹ کھیلا جاتا ہے۔

گذشتہ تین ہفتے میں ان شائقین کو تیز، جارحانہ اور پرجوش کھیل دیکھنے کو ملا ہے اور اب کوارٹر فائنل مرحلے میں بھی ایسے ہی مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے جہاں یورپ اور جنوبی و لاطینی امریکہ کی چار چار ٹیمیں سیمی فائنل تک رسائی کے لیے ٹکرائیں گی۔

ورلڈ کپ کسے ملے گا، اس کا فیصلہ تو ریو کے ماراکانا سٹیڈیم میں 13 جولائی کو ہوگا لیکن فٹبال کی دنیا میں طاقت کا توازن یورپ کے حق میں ہے یا جنوبی امریکہ کے، یہ فیصلہ جمعے اور سنیچر کو ہونے والے کوارٹر فائنلز کر سکتے ہیں۔

جنوبی امریکہ میں کھیلے جانے والے سات ورلڈ کپ مقابلوں میں سے ایک بھی کوئی یورپی ٹیم نہیں جیت سکی ہے جبکہ جنوبی امریکی ممالک میں سے صرف برازیل ہی ایک بار یورپی سرزمین پر فٹبال کا عالمی چیمپیئن بن سکا ہے اور اس واقعے کو بھی 56 سال گزر چکے ہیں۔

چنانچہ یہ ہالینڈ، فرانس، جرمنی اور بیلجیئم کے کوچوں کے لیے دوہرا موقع ہے کہ وہ نہ صرف تاریخ میں اپنا نام درج کروائیں بلکہ یورپ کی بالادستی بھی قائم کر دیں۔

ادھر برازیلی کوچ لوئیز فلیپ سکولاری اور ارجنٹائن کے الیہاندرو سبیلا کو یورپ کو ایک مرتبہ پھر خالی ہاتھ واپس بھیجنے کا موقع ملا ہے۔

ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل مرحلے میں اکثر یورپ کی بالادستی رہی ہے۔ جب چار برس قبل جنوبی افریقہ میں ارجنٹائن، برازیل، پیراگوائے اور یوروگوائے کوارٹر فائنل میں پہنچے تھے تو 1970 کے بعد پہلی مرتبہ کوارٹر فائنلز میں جنوبی امریکہ کو قابلِ ذکر نمائندگی ملی تھی۔

اس مرتبہ بھی جنوبی امریکہ کی چار ٹیموں کا کوارٹر فائنل میں پہنچنا اس خطے کے ممالک کے عزم اور کھیل کے میدان میں ان کی کارکردگی کا عکاس ہے اور وہ 1990 اور 1994 کے اس تاریک دور سے باہر نکل آئے ہیں جب صرف اس خطے کی ایک ٹیم ہی اس مرحلے تک پہنچ پائی تھی۔

سو اب سوال یہ ہے کہ کیا فٹبال کی عالمی دنیا میں طاقت کا محور ایک مرتبہ پھر جنوبی امریکہ بننے جا رہا ہے یا یہ صرف جغرافیائی حالات کا اثر ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کولمبیا کے جیمز رادریگز اس وقت تک ورلڈ کپ کے ٹاپ سکورر ہیں

جرمن کوچ کے خیال میں جنوبی امریکہ میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ وہاں جنم لینے والوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں: ’جنوبی اور وسطی امریکی ٹیموں، ارجنٹائن، کولمبیا، برازیل، میکسیکو اور کوسٹاریکا نے یہ ثابت کیا ہے کہ اپنے براعظم پر وہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

’وہ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم کھیلتے ہیں۔ یہ ہماری زمین ہے اور ہم اپنے مداحوں اور اپنے وطن کو مطمئن کرنے کے لیے جو بھی درکار ہوا کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ ان ٹیموں نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ وہ بہت مضبوط ہیں، اپنے گھر میں ہیں اور آپ یہ بات محسوس کر سکتے ہیں۔‘

یورپی لیگز میں بڑے تعداد میں جنوبی امریکی ممالک کے کھلاڑیوں کی شرکت کے نتیجے میں وہ یورپی ٹیموں کے کھیلنے کے طریقوں سے واقف ہو چکے ہیں جس کا اثر ورلڈ کپ میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔

اس ورلڈ کپ میں اب تک سب سے زیادہ گول کرنے والے تین کھلاڑی کولمبیا کے جیمز رادریگز، برازیل کے نیمار اور ارجنٹائن کے میسی یورپ میں بالترتیب موناکو اور بارسلونا جیسے کلبوں کے لیے کھیلتے ہیں۔

جنوبی، وسطی اور شمالی امریکہ کی ٹیمیں اس ورلڈ کپ میں تیز اور جارحانہ کھیل کا رجحان بھی لائی ہیں جو کہ ان مقابلوں کی پہچان بنا ہے اور نائجیریا اور الجزائر جیسی افریقی ٹیموں نے بھی یہی راہ اپنائی ہے۔

یہ کہنا تو صحیح نہیں ہوگا کہ دفاعی کھیل بھلا دیا گیا ہے لیکن اس ٹورنامنٹ میں سب سے کامیاب ٹیموں نے تیز کھیل اور جارحانہ جوابی حملوں کے انداز کو قبول کیا ہے۔

ناک آؤٹ راؤنڈ میں جرمنی کے خلاف میچ میں شائقین اور ماہرین کا دل جیتنے والی افریقی ٹیم الجزائر کے کوچ وحید ہلیل ہودچ کا کہنا ہے کہ یورپی لیگز ان جنوبی امریکی ٹیموں کے لیے بہت مددگار ثابت ہوئی ہیں۔

ان کے مطابق ’اٹلی، سپین اور انگلینڈ جیسی ٹیموں کے اخراج میں ایک اہم وجہ کھلاڑیوں کی تھکاوٹ بھی تھی۔ ان ممالک کی اپنی لیگز بہت سخت اور مشکل ہیں اور انھیں بہت زیادہ میچ کھیلنا پڑتے ہیں۔‘

وحید ہودچ نے کہا کہ ’انھوں نے چند ہی دن آرام کیا اور وہ جسمانی کے علاوہ نفسیاتی طور پر بھی تھکے ہوئے تھے۔ مجھے کچھ یورپی ٹیموں میں جذبے کی کمی بھی دکھائی دی اور میرے خیال میں کچھ کھلاڑی یہ ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے سب کچھ دینے کو تیار نہیں تھے۔‘

ان کے خیال میں دفاعی چیمپیئن سپین کے پہلے ہی راؤنڈ میں اخراج کی وجہ یہی تھی: ’ان میں عزم کی کمی تھی۔ انھوں نےگذشتہ دہائی میں تقریباً ہر ٹورنامنٹ جیت لیا تھا اور میرے خیال میں اب وہ مزید لڑنے کی خواہش نہیں رکھتے تھے۔‘

ایک اور چیز جسے ہمیشہ سے کلیدی سمجھا گیا ہے وہ جنوبی امریکہ کا گرم موسم ہے۔

انگلش ٹیم کے سابق ونگر کرس ویڈل کا کہنا ہے کہ ’یقیناً جو کھلاڑی گرم ماحول میں پرورش پاتے ہیں، انھیں اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں جدید سپورٹس سائنس اور تیاری کی تکنیک کی وجہ سے اب اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔‘

یہ سب تنازع اپنی جگہ لیکن ایک بات طے ہے کہ برازیل میں جاری اس ورلڈ کپ نے فٹبال کی دنیا پر راج کرنے کی جنگ میں یورپ اور براعظم امریکہ کو ایک بار پھر آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

اسی بارے میں