برازیل کا کھیل پہلے جیسا کیوں نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برازیل کے مداح ایسا ہی محسوس کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ ارجنٹینا کے کوچ نے 1982 میں برازیل کو کھیلتا دیکھ کر محسوس کیا تھا۔

برازیل کے چلی کے خلاف ہونے والے ناک آؤٹ میچ میں برازیل کے دل کے امراض کے ڈاکٹر بہت مصروف تھے۔

اور کیوں نہ ہوتے؟ چلی کے خلاف سنسنی خیز پنلٹیوں کے بعد تو برازیلی عوام کو چیک اپ کی ضرورت پڑ گئی تھی۔

برازیل کی جیت کے بعد بھی دنیا بھر میں ان کے مداح ان سے خوش نہیں ہیں۔ پانچ بار ورلڈ چیمپیئن رہنے والی ٹیم سے ان کے مداحوں کی امیدیں بہت زیادہ ہیں۔

ان کے مداح ایسا ہی محسوس کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ ارجنٹینا کے کوچ اینجل کاپا نے 1982 میں برازیل کو کھیلتا دیکھ کر محسوس کیا تھا۔

اینجل کاپا کا کہنا ہے کہ ’اس وقت جب برازیل کھیل رہا ہوتا تھا تو ایسا لگتا تھا کہ گیند ایک خرگوش کی طرح ہے جو کہ ہر تھوڑی دیر بعد تیزی سے ایک جگہ سے غائب ہو کر آپ کو دوسری جگہ پر ملتی ہے۔ مخالف ٹیم گیند کو ڈھونڈتے ہی رہ جاتی تھی۔ ہم چاہتے تھے کہ وقت تھم جائے اور ہم برازیل کو کھیلتا دیکھتے رہیں۔‘

2014 کی برازیلی ٹیم ہوسکتا ہے کہ اس ورلڈکپ میں خوش قسمتی سے کامیابی حاصل کر جائے لیکن انہیں اس محبت سے یاد نہیں رکھا جائے گا جس طرح 1982 کی ٹیم کو یاد رکھا جاتا ہے حبکہ وہ سیمی فائنل تک بھی نہیں پہنچ پائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برازیلی سٹار کھلاڑی نیمار کے کوچ ڈوریول جونیئر کا کہنا ہے کہ برازیلی ٹیم اب انفرادی کارکردگی پر انحصار کرتی ہے

برازیلی کھیل اس وقت سے اب تک بہت تبدیل ہوچکا ہے اور اس کی اہم وجہ فٹبال کوچ کا اپنی نوکری کی فکر کرنا ہے۔ کوچ اب رسک نہیں لیتے اور محفوظ انداز میں فٹبال کھیلنے پر توجہ دیتے ہیں۔

برازیلی سٹار کھلاڑی نیمار کے سابق کوچ ڈوریول جونیئر کا کہنا ہے کہ برازیلی فٹبال ٹیم اب مڈفیلڈ میں گیند پاس کرنا بھول گئی ہے۔ ان کے مطابق اب برازیل کے کھیل کا دارومدار صرف ونگ پوزیشن پر ہے۔

1982 کی برازیلی ٹیم کھیل کے قدرتی بہاؤ کی بنیاد پر میچ جیت جاتی تھی اور اب وہ انفرادی کارکردگی پر انحصار کرتے ہیں۔

لیکن انفرادی کارکردگی کے لیے بھی ان کے پاس چند ایک اچھے کھلاڑی موجود ہونے چاہیں۔

2002 میں برازیل کے کوچ سکولاری کے پاس رونالڈو، ریوالڈو اور رونالڈینھیو جیسے کھلاڑی موجود تھے لیکن اب ان کے پاس ایسے کھلاڑی نہیں ہیں۔ برازیل یہ ورلڈ کپ کیسے جیتے گا؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں