فیفا کی شراکت دار کمپنی کے سربراہ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رے ویلان (بائیں) فیفا کی شراکت دار کمپنی میچ ہاسپیٹلیٹی کے چیف ايگزیکٹیو ہیں

برازیل کی پولیس نے فٹبال ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی غیر قانونی فروخت کے الزامات کی تفتیش کے لیے فیفا کی شراکت دار کمپنی کے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

میچ ہاسپیٹلیٹی کے چیف ایگزیکٹیو رے ویلان کو ریو دی جنیریو کے ہوٹل سے گرفتار کیا گيا۔ واضح رہے کہ اسی ہوٹل میں عالمی فٹبال کی تنظیم فیفا کے حکام بھی ٹھہرے ہوئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے پولیس نے اس سلسلے میں 11 افراد کو گرفتار کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی ایک بین الاقوامی گروہ کا پردہ فاش ہوا تھا۔

ان پر غیر قانونی طور پر ٹکٹ دوبارہ بیچنے کے الزامات ہیں۔ ان ٹکٹوں میں بعض ٹکٹ بنیادی طور پر کھلاڑیوں کو دیے گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس گینگ نے فی ٹورنامنٹ کم از کم نو کروڑ امریکی ڈالر کی کمائی کی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ گروہ چار ورلڈ کپوں میں سرگرم رہا ہوگا۔

حکام کا خیال ہے کہ ان میں سے بعض ٹکٹ بیرونی سیاحوں کو فروخت کیے گئے ہیں۔

مسٹر ویلان کو پرتعیش کوپاکبانا پیلس ہوٹل سے پیر کو گرفتار کیا گيا۔ انھیں غیرقانونی ٹکٹوں کی فروخت کے سلسلے میں جاری تفتیش کے لیے حراست میں لیا گيا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی کمپنی میچ ہاسپیٹلیٹی نے ابھی اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان میں بعض ٹکٹ کھلاڑیوں کے لیے مخصوص تھے

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران انھوں نے پہلے پہل گذشتہ ہفتے مبینہ فیفا اہلکار کی ایک ٹیلی فون سے نشاندہی کی۔

اس معاملے میں جاری تفتیش کے ذمہ دار فیبیو باروکی نے کہا کہ ان حکام کو فیفا کے دفاتر، سٹیڈیم اور دوسرے انتظامی مقامات کے لیے کلیئرنس ملی ہوئی تھی جہاں سے انھیں ٹکٹ تک رسائی حاصل تھی۔

مسٹر بارکی نے کہا کہ یہ لوگ برازیل کے نہیں ہیں اور وہ صرف اس ٹورنامنٹ کے لیے یہاں آئے ہوئے تھے۔

فیفا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مقامی حکام کے ساتھ پوری طرح تعاون کرے گی اور جاری تفتیش کے لیے ضروری معلومات فراہم کرے گی۔

فیفا کئی دفعہ کہہ چکی ہے کہ ’قانون اور ٹکٹ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کےخلاف اس کا موقف سخت ہے اور وہ پوری طرح سے سکیورٹی حکام کا تعاون کر رہی ہے تاکہ ٹکٹوں کی غیر قانونی فروخت پر پابندی لگائی جا سکے۔‘

گذشتہ ہفتے چھاپے کے دوران پکڑی جانےوالی اشیا میں سو ٹکٹ، کمپیوٹر، امریکی ڈالر، موبائل فون اور دستاویزات بازیاب ہوئیں۔

اسی بارے میں