سب سے زبردست ورلڈ کپ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

گولوں کا ریکارڈ، سواریز کا کاٹنا، ہامیس رودریگس کی شاٹ، جذبہ، ڈرامہ، رنگ، فیشن، یہ سب کچھ ہے اس ورلڈ کپ میں۔

اس ٹورنامنٹ کے پہلے ہی میچ میں میزبان ٹیم برازیل نے خسارے سے واپس آ کر کروئیشیا کو ہرایا اور اس کے بعد سے ہر ایک میچ نے شائقین کو محظوظ کیا ہے۔

یہاں پر بی بی سی سپورٹس کے چیف فٹبال رائٹر فِل میکنلٹی اور بی بی سی کے تجربہ کار کمنٹیٹر جان موٹسن اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا یہ سب سے زبردست ورلڈ کپ ہے؟

بہترین گول

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

میکنلٹی کہتے ہیں: ’اس ورلڈ کپ میں روبن وین پرسی نے ہالینڈ کی جانب سے سپین کے خلاف جس طرح گول کر کے میچ برابر کیا تھا، انہوں نے اس ورلڈ کپ میں گول کا معیار قائم کر دیا تھا۔ اس میچ میں ہالینڈ نے سپین کو 5 - 1 سے شکست دی تھی۔ ہالینڈ کے خلاف ٹم کیہل کا گول اور یوروگوائے کے خلاف ہامیس رودریگس کا شاندار گول انفرادی ذہانت کے ایسے لمحات تھے جنھوں نے اس ورلڈ کپ کو چار چاند لگا دیے۔‘

موٹسن کا تجزیہ: ’میرے خیال میں ٹورنامنٹ کا بہترین گول ٹِم کیہل کا تھا لیکن رودریگس کا گول جیت جائے گا۔‘

’اگر ہم گذشتہ ورلڈ کپ مقابلوں میں ہونے والے گولوں کو دیکھیں تو میرے خیال میں بی بی سی کے پروگراموں میں 1986 سے زیادہ تر میراڈونا کے گول دکھائے جاتے ہیں۔ اور پھر وہ گول ہے جو ارجنٹائن نے 2006 میں سربیا کے خلاف کیا تھا جس میں 25 پاس دیے گئے تھے۔ اس جیسا گول اس ورلڈ کپ میں نہیں ہوا۔ اور ہم میں سے کئی افراد نے وہ شاندار ’ٹیم گول‘ بھی دیکھا ہے جو کارلوس البیرٹو نے 1970 کے فائنل میں کیا تھا۔‘

’کسی ایک کو ’زبردست گول‘ کہنا تو مشکل ہے لیکن میرا سب سے یادگار گول 1986 کے سیمی فائنل میں میراڈونا کا بیلجیئم کے خلاف کیا جانے والا گول ہے اور وہ اس لیے بھی کہ میں اس میچ میں کمنٹری کر رہا تھا۔‘

تنازعات

تصویر کے کاپی رائٹ GETTYIMAGES

میکنلٹی کا تجزیہ: ’وہ ایک واقعہ سب پر حاوی ہے۔ اس ورلڈ کپ کو اس کے جارحانہ فٹبال کی وجہ سے یاد رکھا جانا چاہیے تھا لیکن اس واقعے کی وجہ سے بھی یاد رکھا جائے گا جو کہ اس ورلڈ کپ کے لیے ایک زخم کی طرح ہے۔ اور یہ لمحہ وہ تھا جب یوروگوائے کے لوئس سواریز نے اٹلی کے گریگری چیلینی کو کاٹا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ان کے لیے یہ ورلڈ کپ اور لیور پول کے ساتھ کریئر ختم ہوگیا تھا۔‘

’افتتاحی میچ میں جب برازیل کو پنلٹی ملی تو کروئیشیا کو لگا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور کوارٹر فائنل میں ہالینڈ کے کیپر کی عجیب و غریب حرکتوں سے کوسٹا ریکا کو غصہ آگیا تھا۔‘

موٹسن کا تجزیہ: ’مظاہروں اور سٹیڈیموں کے حالات کے بارے میں بہت سے خدشات تھے۔ میرا خیال ہے کہ میدان میں ریفریوں اور انتظامیہ نے کسی قسم کے بڑا تنازع پیدا نہیں ہونے دیا۔ 1982 میں ہارلڈ شومیکر کے بوٹ، 1990 میں فرینک رِجکارڈ کا روڈی وولر کے بالوں پر تھوکنا اور 2006 میں زین الدین زیدان کا سر مارنے جیسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔‘

’میرے خیال میں سواریز کا کاٹنا ایک مختلف نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ ایک شرمناک واقعہ تھا، خاص طور پر یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ وہ پہلے ایسا دو مرتبہ کر چکے تھے۔ اگر یہ ان کا اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہوتا تو وہ اس طرح شہ سرخیوں میں نہ آتے۔‘

موٹسن کا تجزیہ: ’ایسے دو واقعات ہیں، ایک وہ جب 1982 میں کویت کے امیر اپنے ملک کے خلاف فرانس کے تیسرے گول پر احتجاج کرنے میدان میں آگئے تھے۔ اور دوسرا 1986 میں میراڈونا کا ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول۔ اور میں یہ کہوں گا کہ ایڈن جیکو کا نائجیریا کے خلاف نہ مانا جانے والا گول مجھے ابھی بھی کھٹکتا ہے۔‘

کیا آپ کہ معلوم ہے کہ ارجنٹینا کے عظیم کھلاڑی ڈیاگو میراڈونا نے 1994 کے ورلڈ کپ میں دو میچ کھیلے تھے جس کے بعد انھیں ایفیڈرین کے ٹیسٹ مثبت ثابت ہونے پر گھر بھیج دیا گیا تھا اور ان پر 15 ماہ کی پابندی لگا دی گئی تھی۔

دعویدار

میکنلٹی کا تجزیہ: ’ورلڈ کپ کے دفاعی چیمپیئن سپین، اور ان کے علاوہ اٹلی اور انگلینڈ پہلے مرحلے میں ہی باہر ہوگئے لیکن کئی بڑی ٹیمیں ٹورنامنٹ میں موجود رہیں۔ برازیل، ارجنٹائن، جرمنی اور ہالینڈ جیسی مضبوط ٹیمیں آخری چار میں پہنچیں لیکن آخری مرحلوں میں کوسٹاریکا اور کولمبیا کی صورت میں ایک سرپرائز بھی ملا۔‘

’اس ورلڈ کپ میں تجربہ کار ٹیموں نے مضبوطی دکھائی اور نئی ٹیموں نے معیاری کھیل کا مظاہرہ کیا۔‘

موٹسن کا تجزیہ: ’سپین اس ورلڈ کپ پر نظر ڈالے گا تو انھیں مایوسی ہوگی اور اٹلی کو بھی، کیوں کہ انھیں اپنے گروپ سے کوالیفائی کر لینا چاہیے تھا۔ اور اس کے علاوہ انگلینڈ تھا جس پر پہلے ہی کافی بحث ہو چکی ہے۔‘

’سیمی فائنل میں پہنچنے والی چاروں ٹیمیں دنیا کی بہترین چھ ٹیموں میں سے تھیں۔اس مرتبہ اس ٹرافی کے دعویدار پہلے سے زیادہ تھے۔‘

چھپے رستم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

میکنلٹی کا تجزیہ: ’جنھیں 2002 کا ورلڈ کپ یاد ہے انھوں نے دیکھا ہوگا کہ کس طرح جنوبی کوریا قومی جذبے کی لہر کے ساتھ سیمی فائنل تک پہنچ گیا تھا۔‘

’جب کوسٹا ریکا کا نام انگلینڈ، یوروگوائے اور اٹلی کے گروپ میں آیا تھا تو انھیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ وہ اپنے گروپ میں سرفہرست رہے اور کوارٹر فائنل میں پہنچ کر بھی ہالینڈ انھیں پنلٹیوں ہی پر شکست دے سکا تھا۔‘

’امریکہ کی ٹیم اتنا آگے پہنچی کہ وائٹ ہاؤس کو بھی لگا کہ انھیں اپنی ٹیم کو سراہنا چاہیے۔ کولمبیا کے پاس رودریگس جیسا اچھا کھلاڑی تھا اور مخلاف ٹیموں کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ ان سے کیا توقع رکھی جائے۔ موناکو نے انھیں گذشتہ سیزن تقریباً چار کروڑ برطانوی پاؤنڈ میں خریدا تھا۔‘

موٹسن کا تجزیہ: ’اگر ان ٹیموں میں چار سال میں مزید بہتری آئی تو یہ مزید آگے جا سکیں گی۔ کوچنگ میں بہتری آئی ہے لیکن سب سے زیادہ بہتری گول کیپنگ میں نظر آئی۔ ہمیں ان ٹیموں کو سراہنا چاہیے جن سے ہم اچھی کارکردگی کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ ان ٹیموں میں کوسٹا ریکا سرفہرست ہے، اس کے بعد الجزائر، نائجیریا اور میکسیکو ہیں۔‘

’میرے خیال میں چھپے رستموں کے حساب سے یہ ورلڈ کپ سب سے عمدہ تھا اور کئی ٹیموں نے یہ ثابت کیا کہ ان کے بارے میں جو سوچا گیا تھا وہ اس سے بہتر ہیں۔‘

بہترین کھلاڑیوں کا اچھا کھیل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

میکنلٹی کا تجزیہ: ’لیونیل میسی نے بالآخر ایک اہم ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ نیمار زخمی ہونے سے پہلے اپنی قوم کی امیدوں پر پورا اترے۔‘

’کولمبیا کے رودریگس کی صورت میں ایک نیا سٹار ابھر کر سامنے آیا اور جرمنی کے گول کیپر مانوئل نوئر نے ثابت کیا کہ وہ دنیا کے بہترین گول کیپر ہیں۔‘

’کرستیانو رونالڈو؟ کیا انھیں پرتگال کی ایک عام سی ٹیم کا حصہ ہونے کی وجہ سے بھگتنا پڑا؟‘

موٹسن کا تجزیہ: ’اچھے کھلاڑی ہر ورلڈ کپ میں اچھا کھیل پیش کرتے ہیں۔ میسی نے اب تک اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ رودریگس کی کارکردگی کی وجہ سے سب کی نظریں ان پر رہیں اور ان کے علاوہ ہالینڈ کے آریئن روبن نے اچھا کھیل پیش کیا ہے۔‘

’سب سے اچھے کھلاڑی کا انتخاب کرنا مشکل ہے لیکن مولر نے 2010 میں پانچ گول کیے تھے اور اس ورلڈ کپ میں وہ پانچ گول کر چکے ہیں اور ان کی عمر صرف 24 سال ہے۔‘

ناقابل فراموش میچ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

میکنلٹی کا تجزیہ: ’برازیل اور جرمنی کے درمیان سیمی فائنل میزبان ملک کے لیے ٹرافی جیتنے کی جانب ’چھٹا قدم‘ تھا لیکن وہ پوری قوم کے لیے ایک ڈراونا خواب بن گیا۔ ان کی ورلڈ کپ کی تاریخ کا ایک تاریک دن جب جرمنی نے انھیں 7 - 1 سے بدترین شکست دی اور جسے وہ کبھی بھول نہیں سکیں گے۔‘

موٹسن کا تجزیہ: ’میں دس ورلڈ کپ مقابلوں میں جا چکا ہوں اور کئی یادگار میچ دیکھے ہیں۔ 1986 میں انگلینڈ اور ارجنٹائن، 1998 میں فرانس اور برازیل کا فائنل۔ لیکن اس سیمی فائنل میں جرمنی کی 7 - 1 سے جیت ان سب پر حاوی ہے۔‘