گولڈن بوٹ کس کے نام؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میسی کو گولڈن بوٹ حاصل کرنے کے لیے کم از کم ہیٹ ٹرک درکار ہے

برازیل میں جاری فٹبال کا عالمی کپ کون جیتے گا، اس سوال کے بعد دنیا اگر کسی دوسرے سوال کے جواب کی منتظر ہے تو وہ یہ ہے کہ کون سا کھلاڑی ’گولڈن بوٹ‘ کا حقدار ٹھہرے گا۔

’گولڈن بوٹ‘ عالمی کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کو دیا جاتا ہے۔

اس عالمی کپ میں کولمبیا کے ہامیس رودریگس چھ گولوں کے ساتھ سرفہرست ہیں تاہم ان کی ٹیم عالمی کپ سے باہر ہو چکی ہے جس کے بعد اب اس بات پر نظریں لگی ہوئی ہیں کہ کیا جرمنی کے توماس مُولر اور ارجنٹائن کے لیونیل میسی رودریگس سے آگے نکل پائیں گے؟

مولر نے اب تک پانچ گول کیے ہیں جب کہ لیونیل میسی کے گولوں کی تعداد چار ہے۔ اس طرح میسی کو گولڈن بوٹ حاصل کرنے کے لیے کم از کم ہیٹ ٹرک درکار ہے۔

مولر کو ’گولڈن بوٹ‘ کے لیے صرف ایک گول درکار ہے کیونکہ اگر ان کے اور رودریگس کے چھ گول برابر بھی ہو جاتے ہیں تب بھی مُولر اس لیے ’گولڈن بوٹ‘ حاصل کر لیں گے کیونکہ انھوں نے تین گول کرانے میں مدد کی ہے جبکہ رودریگس نے دو گول کرانے میں ساتھی کھلاڑیوں کو پاس دیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تھامس مُولر کو ’گولڈن بوٹ‘ کے لیے صرف ایک گول درکار ہے

اگر مُولر ’گولڈن بوٹ‘ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ مسلسل دوسرا ورلڈ کپ ہوگا جس میں وہ سب سے زیادہ گول کر کے ’گولڈن بوٹ‘ کے حقدار ٹھہریں گے۔

سنہ 2010 کے عالمی کپ میں جرمنی کے مُولر، سپین کے ڈیوڈ ویا، ہالینڈ کے ویزلے شنائیڈر اور یوروگوائے کے ڈیاگو فورلین نے پانچ پانچ گول کیے تھے لیکن مُولر نے دیگر کھلاڑیوں سے زیادہ گول کرانے میں مدد کی تھی اس لیے وہ ’گولڈن بوٹ‘ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

مُولر برازیل کے خلاف سیمی فائنل ہی میں چھ گول کے ساتھ ’گولڈن بوٹ‘ پر اپنی گرفت جما سکتے تھے لیکن انھوں نے سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلوزے کو گول کرنے کا موقع فراہم کیا جو یہ گول کر کے عالمی کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 16 گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔

مولر نے اس عالمی کپ میں پرتگال کے خلاف ہیٹ ٹرک کی تھی جس کے بعد انھوں نے امریکہ اور برازیل کے خلاف بھی ایک ایک گول کیا۔

برازیل کے نیمار نے اس عالمی کپ کا اختتام چار گولوں پر کیا۔ کولمبیا کے خلاف کمر میں چوٹ لگنے ہونے کے سبب وہ جرمنی کے خلاف سیمی فائنل نہ کھیل سکے جس میں برازیل کو اپنی تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

’گولڈن بوٹ‘ ایوارڈ پہلے عالمی کپ سے ہی دیا جا رہا ہے جبکہ سنہ 1978 کے عالمی کپ سے بہترین کھلاڑی کو ’گولڈن بال‘ ایوارڈ بھی دیا جانے لگا ہے۔

اس بار ارجنٹائن کے میسی اس ایوارڈ کے مضبوط دعویدار ہیں۔ ماضی میں میسی کے ہم وطن ماریو کیمپس اور ڈیاگو میراڈونا عالمی کپ کے بہترین کھلاڑی قرار پا چکے ہیں جبکہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے واحد جرمن کھلاڑی سابق گول کیپر اولیور کان ہیں۔

اسی بارے میں