جرمنی چوتھی بار ورلڈ چیمپیئن بن گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جرمنی کی ٹیم کا یہ ریکارڈ آٹھواں ورلڈ کپ فائنل تھا اور وہ 24 برس بعد یہ ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے

برازیل میں منعقد ہونے والا فٹبال کا 20واں ورلڈ کپ فائنل میں جرمنی کی ارجنٹائن پر ایک گول سے فتح کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

یہ چوتھا موقع ہے کہ جرمنی کی ٹیم ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے تاہم اس موقع کے لیے اسے 24 برس انتظار کرنا پڑا ہے۔

اتوار کی شب ریو ڈی جنیرو کے ماراکانا سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے فائنل میں مقابلہ مقررہ وقت میں برابر رہا تاہم اضافی وقت کے دوسرے ہاف میں ماریوگوتسے نے میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول کیا۔

ارجنٹائن کو اس میچ میں گول کرنے کی کئی یقینی مواقع ملے لیکن وہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکی۔

توقعات کے عین مطابق فائنل میچ کا آغاز تیزی سے ہوا اور دونوں جانب سے جارحانہ کھیل دیکھنے کو ملا۔ پہلے ہاف کی ابتدا میں ارجنٹائن کی ٹیم زیادہ خطرناک دکھائی دی اور اس نے متعدد اچھی مووز بنائیں۔

ایسی ہی ایک کوشش کے دوران 20ویں منٹ میں ایگوائین کو گول کرنے کا سنہری موقع ملا لیکن ان کی شاٹ گول سے کہیں دور تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول جرمنی کے 22 سالہ ماریو گوتسے (بائیں) نے 113ویں منٹ میں آندرے شرل کے پاس پر کیا

دس منٹ بعد ایگوائین نے ہی لاویسی کے پاس پرگیند جرمن گول میں ڈال دی لیکن ریفری نے ان کے آف سائیڈ ہونے پر یہ گول رد کر دیا۔

پہلے ہاف کے اختتام کے قریب ارجنٹائن کے حملوں میں دوبارہ تیزی آئی اور لیونیل میسی کی اچھی کوشش کے نتیجے میں ارجنٹائن کو گول کرنے کا ایک اور موقع ملا لیکن جرمن دفاعی کھلاڑی بواٹنگ نے یقینی گول بچا لیا۔

43 اور 44ویں منٹ میں جرمنی نے بھی مخالف گول پر اچھے حملے کیے لیکن اوزل کی کمزور کک اور پھر کلوزے کی سستی کی وجہ سے جرمنی برتری نہ لے سکا۔

پہلے ہاف کے اضافی وقت میں جرمن کھلاڑی بینیڈکٹ کا ہیڈر ارجنٹائن کے گول پوسٹ سے ٹکرا کر واپس آ گیا اور یوں یہ ہاف بغیر کسی گول کے ختم ہوا۔

دوسرے ہاف کے آغاز میں ہی لیونیل میسی کو ارجنٹائن کو برتری دلوانے کا اچھا موقع ملا مگر وہ بھی گول نہ کر سکے۔

پہلے ہاف کی طرح جرمن ٹیم نے ابتدائی دس منٹ کے کھیل کے بعد دوسرے ہاف میں بھی گیند پر کنٹرول حاصل کر لیا اور پھر زیادہ کھیل ارجنٹائن کے ہاف میں ہی ہوا۔

تاہم سیمی فائنل کی طرح اس میچ میں بھی ماشیرانو سمیت ارجنٹائن کے دفاعی کھلاڑیوں نے عمدہ کھیل پیش کیا اور جرمن فارورڈ کو گول پر نشانہ لگانے کے زیادہ مواقع نہیں دیے۔

دوسرے ہاف میں بھی دونوں ٹیمیں گول کرنے میں ناکام رہیں جس کے بعد اضافی وقت دیا گیا جس کے پہلے ہی منٹ میں جرمنی کے شرل اور اوزل کی کوششوں کو ارجنٹائن کے کیپر رومیرو نے ناکام بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption لیونیل میسی سے ارجنٹائن کو فائنل میں بہت امیدیں تھیں جو پوری نہ ہو سکیں

اضافی وقت کے ساتویں منٹ میں ارجنٹائن کے پلاسیو بھی گول کرنے میں ناکام رہے۔ یہ اس میچ میں ارجنٹائن کو ملنے والا چوتھا ایسا موقع تھا جس پر یقیناً گول ہو سکتا تھا۔

میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول جرمنی کے 22 سالہ ماریو گوتسے نے 113ویں منٹ میں آندرے شرل کے پاس پر کیا۔ گوتسے کو میروسلاف کلوز کی جگہ دوسرے ہاف میں میدان میں اتارا گیا تھا۔

جرمنی کی ٹیم کا یہ ریکارڈ آٹھواں ورلڈ کپ فائنل تھا اور وہ 24 برس بعد یہ ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ آخری مرتبہ بھی 1990 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں اس نے ارجنٹائن کو ہی شکست دی تھی۔

2006 اور 2010 کے ورلڈ کپ میں بھی ارجنٹائن کی ٹیم جرمنی سے ہار کر ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہوئی تھی اور ورلڈ کپ کی تاریخ یہ پہلا موقع ہے میں کوئی ٹیم لگاتار تین مقابلوں میں ایک ہی حریف کے ہاتھوں ناک آؤٹ ہوئی ہے۔

اسی بارے میں