جرمنی کی ورلڈکپ فائنل کی تیاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جرمنی کی ٹیم کو برازیلی عوام کی طرف سے دوستانہ اشارے ملے ہیں۔

جرمن ٹیم کے حالیہ رویہ سے لگتا ہے کہ اگر وہ آج کا ورلڈ کپ فائنل جیت گئے تو شاید وہ برازیلی عوام سے معافی مانگ لیں۔

جرمن ٹیم نے گزشتہ دنوں ٹوئٹر پر برازیل اور برازیلی فٹبال کی تعریفوں کے پل باندھ دیے اور ساتھ ہی برازیلی عوام کے ساتھ ہمدردی بھی جتائی۔ اب یہ سب کچھ اصل تھا یا جرمن ٹیم کی ساکھ اور روابط بہتر کرنے والی پی آر ایجنسی کا کام، اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

ہاں البتہ یہ سب کرنے سے انھیں برازیلی عوام کی طرف سے دوستانہ اشارے ضرور ملے ہیں۔

دوسری طرف جرمنی میں لوگ خوش دکھائی دے رہے ہیں اور جرمن جھنڈے گھروں کے باہر اور چھتوں پر دیکھنے کو مل رہے ہیں لیکن جرمن لوگوں کا فٹبال کے بارے میں نظریہ باقی دنیا سے علیحدہ ہے۔ یہاں فٹبال حب الوطنی یا قوم پرستی سے نہیں جوڑا جاتا۔

لیکن اس نظریہ کے باوجود اگر انھوں نے آج ارجنٹینا کو ہرا دیا تو جرمنی میں اس جیت کو پرزور انداز میں منایا جائے گا۔ جرمنی کی جیت کا مطلب ہوگا کہ وہ پہلی ٹیم ہوگی جو جنوبی امریکہ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کرے گی۔ جیتنے والی جرمن ٹیم کا برینڈنبرگ گیت پر والہانہ استقبال کیا جائے گا۔

24 سال بعد جرمنی کی ٹیم کے لیے یہ پہلا موقع ہوگا کہ وہ ورلڈ کپ کو متحد جرمنی میں لے کر آئیں، اس سے پہلے ہونے والے تینوں ورلڈکپ مغربی جرمنی نے جیتے تھےجبکہ مشرقی جرمنی ایک بھی نہیں جیت پایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شہر کے فٹبال سٹیڈیم ایف سی برلن کو بہت بڑے کمرے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

جرمنی کے شہر برلن میں فائنل کی تیاریاں دیکھنے کے قابل ہیں۔ پوری شہر میں جگہ جگہ بڑی سکرینوں پر میچ دیکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے اور باہر میچ دیکھنے والے ایک لاکھ لوگوں کے لیے بیئر اور دوسری کھانے پینے کی اشیئا کا بھی بندوبست ہے۔

مصنوعی سمندری ساحلوں پر بھی کرسیاں اور سکرینیں لگائی گئی ہیں۔ شہر کے فٹبال سٹیڈیم ایف سی برلن میں 750 صوفا سیٹ رکھ کر اور اس کے سامنے سکرین لگا کر اسے بہت بڑے کمرے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

جرمنی کا سب سے مشہور روزنامہ بائلڈ بھی پوری طرع سے جرمن کھلاڑیوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ معمول سے ذیادہ بڑے الفاظوں کا استعمال کر کے بائلڈ نے اپنے صفحات کو جرمن ٹیم کی خبروں سے بھر دیا ہے۔

جرمنی میں سب کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ آج کے فائنل میں ارجنٹائن کو شکست دیں گے۔ جرمن عوام کا خیال ہے کہ ارجنٹائن صرف میسی پر مشتمل ہے جبکہ جرمنی ایک باقاعدہ ’ٹیم‘ ہے اور اگر میسی کو کنٹرول کرلیا جائے تو جرمنی کو جیتنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ہوسکتا ہے کہ ماراکانہ سٹیڈیم میں موجود برازیلی مداح آج جرمنی سے اتنے پریشان نہ ہوں اور جرمن کھلاڑیوں کی کی ہوئی ٹوئٹس جرمنی کی ٹیم کو دوستانہ ماحول فراہم کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جرمنی کے گول کرنے پر مرکل ایک چھوٹی بچی کی مانند دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر خوشی سے اچھلتی ہیں

جرمن چانسلر انگیلا مرکل بھی سٹیڈیم میں فائنل کے دوران موجود ہونگی۔ مرکل جرمنی کے پرتگال کے خلاف ہونے والے گروپ میچ میں بھی نے اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے موجود تھیں۔ان کے اس رویہ نے ان کی جرمنی میں مقبولیت میں بھی اضافہ کیا ہے۔

مرکل عمومًا عوام کی موجودگی میں جذبات کا اظہار نہیں کرتیں تاہم ان کا یہ اصول تب لاگو نہیں ہوتا جب جرمنی گول کرتا ہے۔ اس موقع پر مرکل ایک چھوٹی بچی کی مانند دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر خوشی سے اچھلتی ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ آج وہ کتنی بار اس طرع اچھلیں گی۔

اسی بارے میں