دولتِ مشترکہ کھیل: پاکستان کو شرکت کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بین الصوبائی رابطے کی وزارت نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ پاکستانی دستے کو دولتِ مشترکہ کھیلوں میں شرکت کی اجازت دی جائے

لاہور ہائی کورٹ نے 23 جولائی سے سکاٹ لینڈ کے شہرگلاسگو میں شروع ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستانی دستے کو شرکت کی اجازت دے دی ہے۔

پاکستان کی ان مقابلوں میں شرکت اس وقت خطرے سے دوچار ہوگئی تھی جب متوازی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے لاہور ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا۔ اس حکم امتناعی کے نتیجے میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی تسلیم شدہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

اس موقعے پر بین الصوبائی رابطے کی وزارت نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ پاکستانی دستے کو کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کی اجازت دی جائے۔

پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل اخترنواز گنجیرا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے معاملات عدالت میں زیرِسماعت ہیں لیکن عدالت نے جمعے کو پاکستانی دستے کو دولتِ مشترکہ کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کا 62 رکنی دستہ آٹھ کھیلوں میں حصہ لے گا جن میں بیڈمنٹن، کشتی، نشانہ بازی، جمناسٹکس، باکسنگ، ویٹ لفٹنگ، ٹیبل ٹینس اور ایتھلیٹکس شامل ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں اور آفیشلز نے سکون کا سانس لیا ہے جو اس دوران بے یقینی کی کیفیت سے دوچار تھے کہ وہ ان کھیلوں میں حصہ لے سکیں گے یا نہیں۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے تنازعے نے پچھلے کئی برسوں سے پاکستانی کھیلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب پاکستان سپورٹس بورڈ نے ایک فریق بنتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کو پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد سرکاری سرپرستی میں میجر جنرل (ریٹائرڈ) اکرم ساہی کی سربراہی میں ایک متوازی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن قائم کر دی گئی۔

تاہم انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ایک سے زائد بار یہ واضح کیا ہے کہ وہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو پاکستان کی نمائندہ تسلیم کرتی ہے اور اگر اسے کام کرنے سے روکا گیا تو وہ پاکستان کی رکنیت معطل کر دے گی۔

غور طلب بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے بھی حال ہی میں اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے جنرل عارف حسن کی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کر لیا ہے۔

تاہم متوازی ایسوسی ایشن، جسے ماضی میں حکومت کی سرپرستی حاصل رہی ہے، نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا۔ اس باہمی چپقلش کے نتیجے میں پاکستان کھیلوں کے کئی بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت سے محروم ہو چکا ہے۔

سکاٹ لینڈ میں منعقدہ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کی ہاکی میں عدم شرکت کی وجہ بھی یہی ہے کیونکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی تسلیم کردہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو اپنی انٹری بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔

اب تک پاکستان نے دولتِ مشترکہ کھیلوں کے مقابلوں میں مجموعی طور پر 24 طلائی تمغے حاصل کیے ہیں جن میں سے 20 طلائی تمغے کشتی میں ملے ہیں۔

اسی بارے میں