ملکہ برطانیہ کے ریس کی گھوڑی کے خون میں مارفین

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسٹیمیٹ چار سالہ گھوڑی ہے جسے نیومارکیٹ میں تربیت دی گئی ہے اور اس نے نو دوڑوں میں سے چار جیتی ہیں

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی ریس کے گھوڑی کے خون میں نشہ آور دوا مارفین پائی گئی ہے۔

بکنگھم پیلس کے مطابق یہ غیر قانونی جز سر مائیکل سٹاؤٹ کی تربیت یافتہ گھوڑی اسٹیمیٹ (Estimate) میں پایا گیا۔

بکنگھم پیلس نے کہا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اسٹیمیٹ کے خون کے ٹیسٹ میں مارفین کے مثبت نتائج کی وجہ مارفین سے آلودہ خوراک ہے۔

ملکہ کو ان کی گھوڑی کے ٹیسٹ کے بارے میں معلومات دے دی گئی ہیں۔ انھوں نے گذشتہ سال رائل سکاٹ میں گولڈ کپ کی جیت والی دوڑ میں اسٹیمیٹ کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

برطانیہ میں گھڑ دوڑ کی نگرانی کرنے والے ادارے برٹش ہارس ریسنگ اتھارٹی (بی ایچ اے) نے مارفین کو قدرتی طور پر پائے جانے والے اجزا کی فہرست میں ڈال رکھا ہے اور اس کے استعمال کی اجازت دی ہے لیکن گھڑ دوڑ کے دنوں میں اس کے استعمال کی اجازت نہیں ہوتی۔

ملکہ کے گھڑ دوڑ کے مشیر جان وارن نے کہا کہ ’بی ایچ اے نے 17 جولائی کو اعلان کیا کہ ریس کے بعد بعض گھوڑوں سے لیے گئے نمونوں میں مارفین پائی گئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ ان گھوڑوں میں اسٹیمیٹ بھی شامل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق اسٹیمیٹ کے خون کے ٹیسٹ میں مارفین کے مثبت نتائج کی وجہ مارفین سے آلودہ خوراک ہے۔‘

وارن نے مزید کہا کہ ’سر مائیکل اسٹیمیٹ کے لیے خوراک مہیا کرنے والی کمپنی کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں کہ اصطبل میں پہنچنے سے پہلے خوراک مارفین سے کیسے آلودہ ہوئی۔‘

انھوں نے کہا کہ سر مائیکل بی ایچ اے کے ساتھ اس کیس کی تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

بی ایچ اے نے تحقیقات کے دوران اسٹیمیٹ کے خون میں مارفین کی موجودگی پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

اسٹیمیٹ چار سالہ گھوڑی ہے جسے نیومارکیٹ میں تربیت دی گئی ہے اور اس نے نو دوڑوں میں سے چار جیتی ہیں۔ جون سنہ 2013 میں اسٹیمیٹ نے گولڈ کپ جیت کر یہ تاریخ رقم کی کہ وہ برطانیہ کی کسی برسرِ اقتدار ملکہ کی پہلی گھوڑی بنی جس نے یہ ریس جیتی ہو۔

اسی بارے میں