پاکستانی کوہ پیماؤں نے پہلی بار کے ٹو سر کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی کے ٹو کو پہلی بار اطالوی کوہ پیماؤں نے نے سنہ 1954 میں سر کیا تھا

پاکستان کی کوہ پیما ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کےٹو کو پہلی بار مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے سر کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ کے ٹو کے لیے پہلی بار ایک ایسی کوہ پیما ٹیم روانہ کی گئی ہے جس کے تمام ارکان پاکستانی ہیں۔

پاکستانی کوہ پیماؤں کی ٹیم میں حسن جان، علی درانی، رحمت اللہ بیگ، غلام مہدی، علی اور محمد صادق شامل ہیں۔

پہلی بار سنہ 1954 میں اٹلی کے کوہ پیماؤں نے اس چوٹی کو سر کیا تھا اور پاکستانی کوہ پیماؤں کی جانب سے یہ کوشش اس پہلی کوشش کی 60 ویں سالگرہ کے موقعے پر کی جا رہی ہے۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ ایورسٹ کے بعد کےٹو دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے لیکن کوہ پیماؤں کے نزدیک اس کا سرکرنا مشکل ترین ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ APP
Image caption کے ٹو کے لیے پہلی بار ایک ایسی کوہ پیما ٹیم روانہ کی گئی ہے جس کے تمام ارکان پاکستانی ہیں۔

اس کو سرکرنے کی کوشش میں کئی کوہ پیما اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ چوٹی سر کرنا آدھی کامیابی ہوتی ہے کیونکہ چوٹی سے نیچے اترتے وقت بھی کئی کوہ پیما جان گنوا چکے ہیں۔

کےٹو کی اونچائی 8611 میٹر ہے اور یہ پاکستان کی سب اونچی چوٹی ہے جو پاکستان چین کی سرحد پر قراقرم کے بڑے کوہستانی سلسلے میں واقع ہے۔

کےٹو کو بلتی زبان میں ’چوگوری‘ بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب پہاڑوں کا راجہ ہوتا ہے۔

چھ ہزار میٹر تک تو اس پہاڑ پر چٹانیں ہیں اور اس کے بعد برف کا ایک سمندر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption کوہ پیما کےٹو کا سر کرنا مشکل ترین عمل مانتے ہیں

سنہ 1954 میں اطالوی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم کےٹو کو سر کرنے کی خاطر اپنی قسمت آزمانے پاکستان آئی تھی۔

اس ٹیم میں 12 کوہ پیما کے علاوہ چار سائنسداں اور ایک ماہر کوہ پیما پروفیسر آرڈیٹو ڈیسیؤ بھی شامل تھے۔ وہ دوسری جنگ عظیم سے قبل بھی ایک اطالوی ٹیم کے ساتھ آ چکے تھے۔

بہر حال سنہ 1954 کی مہم کے دوران اطالوی ٹیم نے اپنا ایک ساتھی گنوا دیا تھا۔

تاہم 31 جولائی کوان کے دو کوہ پیما لینو لیسڈیلی اور اچیلے کومپاگنونی نے چوٹی پر پہنچنے سے 500 میٹر قبل ہی آکسیجن ختم ہوجانے کے باوجود اسے سر کرلیا اور اس طرح کے ٹو کے ناقابل تسخیر ہونے کا ریکارڈ ختم ہو گيا۔

اسی بارے میں