چھ ماہ کے طویل انتظار کے بعد پہلی ٹیسٹ سیریز بدھ سے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی ٹیم اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر ہے

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ بدھ سےگال میں شروع ہو رہا ہے۔

پاکستانی کرکٹرز کو چھ ماہ کے طویل انتظار کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کو مل رہی ہے۔

پاکستانی ٹیم نے آخری ٹیسٹ سیریز اس سال جنوری میں سری لنکا ہی کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی تھی جس میں شارجہ میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے صرف 58 اوورز میں 302 رنز کا ہدف حاصل کر کے پانچ وکٹوں سے شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔

وقار یونس کو امید ہے کہ پاکستانی کھلاڑی شارجہ کی اس جیت کو اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے آئندہ بھی ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ سری لنکا اپنے ہوم گراؤنڈ پر ایک سخت ٹیم ہے جسے ہرانے کے لیے ان کے کھلاڑیوں کو تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔

وقار یونس اس سیریز سے بحیثیت کوچ اپنی دوسری مدت کا آغاز بھی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ اپنی جگہ اہم لیکن اس سے قبل سری لنکا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز بھی کم اہم نہیں ہیں۔

کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو سیریز جیتنے کے لیے سری لنکا کے بلے بازوں خصوصاً مہیلا جے وردھنے کو بڑے سکور سے روکنا ہوگا۔

مصباح الحق کے مطابق پاکستانی ٹیم کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیت کر اپنی عالمی رینکنگ بہتر بنائے۔

مصباح الحق کو یقین ہے کہ سعید اجمل اور جنید خان اس شاندار کارکردگی کو برقرار رکھیں گے جو انھوں نے گذشتہ سیریز میں دکھائی تھی۔

پاکستانی ٹیم اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر ہے۔

جنید خان سری لنکا کے خلاف آخری دو ٹیسٹ سیریز میں 28 اور سعید اجمل 25 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

سری لنکن ٹیم ایک بڑے سکور کے لیے ہمیشہ مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگا کارا کی جانب دیکھتی آئی ہے اور اس بار بھی یہ دونوں اس کی سب سے بڑی امید ہیں جبکہ کپتان بننے کے بعد سے اینجیلو میتھیوز کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی ہے۔

اس سال کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے چار بلے بازوں میں سری لنکا کے سنگا کارا، اینجلو میتھیوز جے وردھنے اور کوشل سلوا ہیں۔

اسی طرح بولنگ میں اس سال اب تک سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے پانچ بولرز میں تین سری لنکن ہیں، ان میں لیفٹ آرم سپنر رنگانا ہیراتھ 37 وکٹوں کے ساتھ سرِفہرست ہیں۔

رنگانا ہیراتھ نے پاکستان کے خلاف آخری دو ٹیسٹ سیریز میں 29 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

پاکستانی ٹیم سنہ 2006 کے بعد سے سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکی ہے۔

سری لنکا نے اس سال متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر کھیلنے کے بعد بنگلہ دیش اور انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتی ہیں لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ ہوم سیریز میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی بارے میں