ٹیم 62 رکنی، تمغے چار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی پر تنقید کی جا رہی ہے

پاکستان گلاسگو میں منعقدہ بیسویں دولتِ مشترکہ کھیلوں میں چاندی کے تین اور کانسی کا ایک تمغہ حاصل کر سکا۔ 1998 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ان کھیلوں میں ایک بھی طلائی تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

پاکستان نے یہ تمغے صرف ریسلنگ۔جوڈو اور باکسنگ میں حاصل کیے حالانکہ اس نے 12 کھیلوں میں شرکت کی تھی۔

پاکستان نے دولتِ مشترکہ کھیل میں شرکت کے لیے 62 رکنی بھاری بھرکم جتھہ گلاسگو بھیجا تھا جس میں کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ آفیشلز اور سرکاری خرچے پر سیرسپاٹے کرنے والے اعلیٰ افسران کی بھی کمی نہیں تھی۔

البتہ پاکستانی سپورٹس گذشتہ چند برسوں سے جس تباہ کن صورتِ حال سے دوچار ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں سے کسی غیرمعمولی کارکردگی کی بھی توقع نہیں تھی۔

2010 میں دہلی کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کے بعد سے گلاسگو کے مقابلوں تک کا چار سال کا قیمتی وقت پاکستان کھیلوں میں حکومتی مداخلت کی نذر ہو گیا جس کا سب سے بڑا نقصان کھیلوں اور کھلاڑیوں کو ہوا۔

سرکاری سرپرستی میں قائم کی جانے والی متوازی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ نے ان فیڈریشنوں کو بین الاقوامی مقابلوں سے شرکت سے روکے رکھا جو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی تسلیم کردہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ماتحت کام کرتی رہی ہیں۔

اگر کسی مقابلے میں پاکستان نے شرکت بھی کی تو وہ مخص رسمی کارروائی ثابت ہوئی۔

گلاسگو کے دولتِ مشترکہ کھیل اس کی تازہ ترین مثال ہیں جس میں پاکستان اپنے قومی کھیل ہاکی میں شرکت سے محروم رہا کیونکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن آخر وقت تک اس پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعے انٹری بھیجنے کے لیے تیار نہ ہوئی جسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی پاکستان کی نمائندہ تسلیم کرتی ہے۔

دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کی شرکت بھی آخر وقت تک بے یقینی کا شکار رہی کیونکہ سرکاری سرپرستی میں قائم کی گئی متوازی اولمپک ایسوسی ایشن نے حکومت کی حمایت سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے بعد عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا اور آخر وقت تک یہ کوشش جاری رکھی کہ پاکستان کسی طرح کھیلوں میں شرکت نہ کر سکے۔

تاہم عدالت نے پاکستانی دستے کو ان کھیلوں میں شرکت سے روکنے کے بارے میں کوئی بھی حکم جاری نہیں کیا۔

دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کی شرکت کے ضمن میں یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ جب یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کشتی اور باکسنگ کے علاوہ کسی بھی دوسرے کھیل میں تمغے کا حصول ناممکن تھا، تو بھاری بھرکم اخراجات کے ذریعے دوسرے کھیلوں میں کھلاڑی اور آفیشلز کی بڑی تعداد کیوں بھیجی گئی؟

غورطلب بات یہ ہے کہ جوڈو کو فہرست سے ہی خارج کر دیا گیا تھا، تاہم سابق اولمپیئن باکسر حسین شاہ کی پی او اے کے صدر سے بات چیت کے بعد ہی ان کے بیٹے شاہ حسین کی شرکت ممکن ہو سکی جنھوں نے چاندی کا تمغہ جیتا۔

اس کے برعکس لان بولنگ جیسے کھیل کو پہلی بار شامل کر کے سکاٹ لینڈ میں رہنے والے دو ایسے افراد کو ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب کرلیا گیا جو گلاسگو میں کلب کی سطح پر کھیلتے ہیں اور ایک ریسٹورنٹ چلاتے ہیں۔

اسی طرح سوئمنگ میں ملک سے باہر مقیم تیراکوں پر بھی خاص نظر کرم رہی۔ ویٹ لفٹنگ میں بھی سلیکشن پر شدید اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

پاکستان سپورٹس بورڈ ایک بار پھر زبردست تنقید کی زد میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے تنازعے میں سب سے بڑا فریق بن کر سامنے آیا ہے حالانکہ اس کی واحد ذمہ داری کھلاڑیوں کی کوچنگ اور تربیت ہے، لیکن گذشتہ چار سال تک پاکستان سپورٹس بورڈ کے سابق ڈائریکٹر جنرل نے اپنی پوری توانائی پاکستان کی نمائندہ اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے اولمپک ہاؤس خالی کرانے اور انھیں پولیس سے پٹوانے پر صرف کر دی۔

پاکستانی سپورٹس کے قضیے میں سب سے بڑا نقصان کشتی کا ہوا ہے جس نے چارسال قبل دہلی کے دولتِ مشترکہ کھیل میں دو طلائی اور ایک چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا، لیکن اس کے فوراً بعد پاکستانی پہلوان آسٹریلیا میں منعقدہ دولتِ مشترکہ ریسلنگ چیمپئن شپ میں شرکت سے صرف اس لیے محروم کر دیے گئے تھے کیونکہ پاکستان سپورٹس بورڈ نے آسٹریلوی سفارت خانے کو وہ خط جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا جس میں یہ ضمانت مانگی گئی تھی کہ یہ پہلوان چیمپیئن شپ ختم ہونے کے بعد پاکستان واپس آ جائیں گے۔

ستم بالائے ستم پاکستانی پہلوان دہلی اور گلاسگو کےدرمیانی چار سالہ عرصے میں ایک بھی بین الاقوامی ایونٹ میں حصہ نہیں لے سکے اور نہ ہی ان کی ٹریننگ کے لیے کوئی موثر پروگرام ترتیب دیا گیا۔

یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ مشکل حالات میں گلاسگو جانے والے پہلوان چاندی اور کانسی کا ایک ایک تمغہ ہی حاصل کر سکے۔

اسی بارے میں