گال ٹیسٹ: سنگاکارا اور بارش پاکستان کی راہ میں حائل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جے وردھنے اور سنگاکارا نے اپنی 18 سنچری پارٹنرشپ ریکارڈ بک میں درج کرائی

مضبوط اعصاب کے مالک کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے حریف بولروں کے اعصاب جھنجھوڑنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

بہت کم ایسا ہوا ہے کہ حریف ٹیم دونوں کو ایک ساتھ قابو میں کرنے میں کامیاب ہوئی ہو۔

یہ جوڑی اب ٹوٹنے کو ہے کیونکہ پاکستان کے خلاف اسی سیریز میں کولمبو ٹیسٹ مہیلا جے وردھنے کا الوداعی ٹیسٹ میچ ہوگا، لیکن لگ رہا ہے کہ اس رفاقت کے ختم ہونے سے قبل یہ دونوں بلے باز پاکستانی بولروں کو سبق سکھانے کے موڈ میں ہیں۔

گال ٹیسٹ کے تیسرے دن ان دونوں کے ہاتھوں پاکستانی بولنگ کی بے بسی لکھی رہی جنھوں نے ریکارڈز اور انفرادی سنگ میل پر اپنے نام درج کراتے ہوئے اپنی ٹیم کی پوزیشن کو بھی کمزور نہیں ہونے دیا۔

بارش اور کم روشنی کی آنکھ مچولی نے گراؤنڈ سٹاف کو ہروقت مستعد رکھا۔ پورے دن صرف 46 اوورز کرائے جا سکے جبکہ چائے کے بعد کا کھیل مکمل طور پر بارش کی نذر ہوگیا۔

سری لنکا نے تیسرے دن کا اختتام 252 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکستان کے سکور 451 رنز سے 199 رنز پیچھے ہے۔

جب امپائروں نے وکٹوں سے بیلز اٹھائیں تو سنگاکارا 102 اور جے وردھنے 55 رنز پر کریز پر تھے۔

پاکستانی بولنگ کوشل پریرا کی وکٹ حاصل کرنے کے بعد ان دو ستونوں کو گرانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

سعید اجمل نے پریرا اور پھر کسی حد تک جے وردھنے کو پریشان کیا لیکن دوسرے سیشن میں وہ بھی خاص تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

انھوں نے 29 اوورز میں 76 رنز دیے تاہم وہ وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

کوشل پریرا 64 رنز بناکر محمد طلحہ کی گیند پر وکٹ کیپر سرفراز احمد کے ایک ہاتھ سے دبوچے گئے کیچ پر آؤٹ ہوئے تو سری لنکا کا سکور 144 رنز تھا۔

پریرا نے سنگاکارا کے ساتھ 120 رنز کی شراکت قائم کی۔

مہیلا جے وردھنے گال میں اپنے آخری ٹیسٹ میں بیٹنگ کے لیے آئے تو سکول کے بچوں نے انھیں دو رویہ قطار میں کھڑے ہوکر بلّوں کے ساتھ گارڈ آف آنر دیا۔

جے وردھنے اور سنگاکارا نے اپنی 18 سنچری پارٹنرشپ ریکارڈ بک میں درج کرائی۔

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 20 سنچری پارٹنرشپ قائم کرنے والی جوڑی سچن تندولکر اور راہول دراوڈ کی ہے۔

سنگاکارا نے ٹیسٹ میچوں میں 37 سنچری سکور کی۔ یہ ان کی پاکستان کے خلاف دسویں اور گال میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں ساتویں سنچری ہے۔

سنگاکارا کی مستقل مزاجی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ آخری 15 ٹیسٹ اننگز میں چار سنچریاں اور سات نصف سنچریاں سکور کر چکے ہیں۔

وہ اس سال ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بھی ہیں۔

مہیلا جے وردھنے جو گال میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ہیں اس میدان سے وہ آٹھویں سنچری بنا کر رخصت ہونا چاہتے ہیں جس کے لیے انھیں مزید 45 رنز درکار ہیں۔

اسی بارے میں