جیت کی کنجی سنگاکارا، جے وردھنے کے ہاتھ میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہیراتھ نے دو ہزار چودہ کے کیلنڈر سال میں وکٹوں کی نصف سنچری بھی مکمل کرلی ہے

کولمبو ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے سری لنکا کی تمام تر امیدیں اب مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا سے وابستہ ہیں۔

سری لنکن بیٹنگ کی سب سے قابل اعتماد جوڑی آخری بار کسی ٹیسٹ اننگز میں یکجا ہے اور اپنی ٹیم کی برتری 165 رنز تک لے جانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس میچ کی چوتھی اننگز پاکستانی بیٹسمینوں نے کھیلنی ہے جس میں انہیں ایک بار پھر رنگانا ہیراتھ کا سامنا کرنا ہوگا۔

کمارسنگاکارا پہلی اننگز کی مایوسی کی کسر اس بار نکالنے کے موڈ میں ہیں اور وہ 54 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔

اپنی آخری ٹیسٹ اننگز میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے والے مہیلا جے وردھنے 49 رنز پر ان کے ساتھ موجود ہیں جبکہ سری لنکا نے تیسرے دن کا اختتام 177 رنز2 کھلاڑی آؤٹ پر کیا ۔

سری لنکا کی گرنے والی دونوں وکٹیں عبدالرحمن نے حاصل کیں جس کے بعد مہیلا جے وردھنے اور سنگاکارا تیسری وکٹ کی شراکت میں 98 رنز کا اضافہ کرچکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وکٹ کیپر سرفراز احمد نے مشکل صورتحال میں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کرکے پاکستانی اننگز کو تین سو بتیس کے باعزت اسکور تک پہنچانے کی ذمہ داری بخوبی نبھائی

اس اننگز کے دوران یہ دونوں ٹیسٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی جوڑی کی فہرست میں دوسرے نمبر پر بھی آگئے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ چھ ہزار نو سو بیس رنز بنانے والی جوڑی سچن تندولکر اور راہول ڈراوڈ کی ہے جبکہ اسی بھارتی جوڑی نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ بیس سنچری پارٹنرشپس بھی قائم کی ہیں۔

جے وردھنے اور سنگاکارا اپنی انیس ویں سنچری پارٹنرشپ سے صرف دو رنز کی دوری پر ہیں۔

پاکستانی ٹیم کی مشکل یہ ہے کہ اسے فاسٹ بولر جنید خان کی خدمات حاصل نہیں ہیں جو دھمیکا پرساد کا باؤنسر چہرے پر لگنے کے بعد ڈریسنگ روم میں اپنا توازن کھوبیٹھے اور انہیں فوری طور پر اسپتال لیجایا گیا جہاں ان کے ٹیسٹ ہوئے ہیں۔

اس سے قبل پہلا سیشن بھی دو کھلاڑیوں سرفراز احمد اور رنگانا ہیرتھ کے انفرادی سنگ میل کے سبب یاد رہے گا۔

وکٹ کیپر سرفراز احمد نے مشکل صورتحال میں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کرکے پاکستانی اننگز کو تین سو بتیس کے باعزت اسکور تک پہنچانے کی ذمہ داری بخوبی نبھائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستانی ٹیم کی مشکل یہ ہے کہ اسے فاسٹ بولر جنید خان کی خدمات حاصل نہیں ہیں

یہ پانچ سال میں پاکستانی وکٹ کیپر کی پہلی ٹیسٹ سنچری بھی ہے اور یہ بھی پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی وکٹ کیپر نے سری لنکن سرزمین پر ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کی ہے۔

رنگانا ہیرتھ نے ایک سو ستائیس رنز دے کر نو وکٹوں کی غیرمعمولی کارکردگی پر اننگز کا اختتام کیا۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بائیں ہاتھ کے کسی بولر نے ایک اننگز میں نو وکٹیں حاصل کی ہیں ۔اس سے قبل انگلینڈ کے جانی برگس نے جنوبی افریقہ کےخلاف اٹھارہ سی نواسی کے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کی ایک اننگز میں آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

پاکستانی ٹیم نے دوسرے دن اننگز شروع کی تو سب کے ذہنوں میں یہی سوال تھا کہ سرفراز احمد سمیت پاکستانی لوئر آرڈر بیٹنگ رنگانا ہیراتھ کے چیلنج کا سامنا کتنی دیر کرسکے گی۔

سرفراز احمد نے عبدالرحمٰن کے ساتھ اسکور میں قیمتی چالیس رنز کا اضافہ کیا۔ انہوں نے وہاب ریاض کی وکٹ گرنے کے فوراً بعد ویلیگیدرا کی دو گیندوں پر چوکا اور چھکا لگاکر سنچری مکمل کی۔

سرفراز احمد جب بیٹنگ کے لیے آئے تھے تو پاکستان کا اسکور پانچ وکٹوں پر صرف ایک سو چالیس رنز تھا لیکن ان کی ذمہ دارانہ اننگز کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم سری لنکا پر بارہ رنز کی سبقت حاصل کرنے کی پوزیشن میں آسکی۔

رنگانا ہیراتھ ایک کے بعد ایک وکٹ پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے نو وکٹوں پر جاکر رکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان میں سیاسی گہما گہمی کے باوجود وہاب ریاض کا نام ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا

ان کی زد سے بچنے والی واحد وکٹ احمد شہزاد کی تھی۔

ہیراتھ ابتک تین اننگز میں اٹھارہ وکٹیں حاصل کرچکے ہیں اور دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سب سے زیادہ بائیس وکٹوں کا مرلی دھرن کا ریکارڈ اپنے نام کرنے کے لیے ان کے پاس سنہری موقع ہے۔

ہیراتھ نے دو ہزار چودہ کے کیلنڈر سال میں وکٹوں کی نصف سنچری بھی مکمل کرلی ہے۔

سری لنکن وکٹ کیپر ڈک ویلا نے بھی اپنی موجودگی کا احساس اننگز میں پانچ کیچز کے ساتھ دلایا۔

اسی بارے میں