بنیادیں ہل چکیں، نوشتۂ دیوار پڑھا جا چکا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دم توڑتی بیٹنگ لائن کی مزاحمت وکٹ کیپر سرفراز احمد نے سنبھال رکھی ہے

گال ٹیسٹ کے بعد کولمبو میں بھی پاکستانی ٹیم کی شکست کا سکرپٹ لکھا جا چکا ہے۔

فتح گر رنگانا ہیرتھ ایک اور شاندار جیت سری لنکا کی جھولی میں ڈال کر جشن منانے کا پورا پورا بندوبست کر چکے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کو جیت کے لیے 271 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن بیٹنگ کے سورماؤں نے شاید رسوا ہونے کی قسم کھا رکھی ہے۔

کھیل ختم ہونے پر اس کی سات وکٹیں صرف 127 رنز پر گرچکی تھیں جن میں سے چار ہیراتھ کی تھیں۔

دم توڑتی بیٹنگ لائن کی مزاحمت وکٹ کیپر سرفراز احمد نے سنبھال رکھی ہے جو 38 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے تاہم پاکستان کو جیت کے لیے اب بھی 144 رنز درکار ہیں اور صرف تین وکٹیں باقی ہیں۔

پاکستانی ٹیم اوپننگ کے دائمی مرض سے چھٹکارہ پانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

سلیکٹرز اور ٹیم منیجمنٹ کو یہ حقیقت مان لینی چاہیے کہ خرم منظور ٹیسٹ کرکٹ کے معیار کے اوپنر نہیں ہیں۔

گذشتہ اکتوبر میں جنوبی افریقہ کے خلاف 146 رنز کی اننگز کے بعد سے وہ 13 اننگز میں صرف دو پچاس کر کے ایسے کھیل رہے ہیں جیسے وہ کوئی ورلڈ کلاس بیٹسمین ہوں جن کی فارم میں واپسی کا ٹیم شدت سے انتظار کر رہی ہو۔

احمد شہزاد نے سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ کریئر کی ابتدا ایک سنچری اور ایک نصف سنچری سے کی تھی لیکن موجودہ سیریز میں وہ ناکام ہوکر ٹیم کی مایوسی بڑھاتے رہے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کی بدقسمتی یہ رہی کہ رنگانا ہیراتھ کے بولنگ کے لیے آنے سے قبل ہی دونوں اوپنرز نے اپنی وکٹیں دھمیکا پرساد کو تھما دیں۔

رنگانا ہیرتھ آتے ہی حسب معمول پاکستانی بیٹسمینوں کے اعصاب پر سوار ہوگئے۔

انھوں نے اپنے دوسرے ہی اوور میں آؤٹ آف فارم اظہر علی کو پویلین کی راہ دکھائی۔

یہ اس میچ میں ان کی دسویں وکٹ تھی۔

31 رنز پر تیسری وکٹ گرنے پر مصباح الحق کی انٹری ہوئی جو ماضی میں اس طرح کی مشکل صورتحال میں متعدد قابل ذکر اننگز کھیل چکے ہیں لیکن اس سیریز میں رنز ان سے بھی روٹھے رہے ہیں۔

وہ صرف تین رنز بناکر ہیراتھ کی گیند پر سلپ میں جے وردھنے کو کیچ دے گئے۔

یونس خان کو آٹھ رنز پر ہیراتھ نے ایل بی ڈبلیو کیا تو نصف سو کے سکور پر نصف ٹیم مفلوج ہو چکی تھی۔

اسد شفیق کا ٹیلنٹ بڑی اننگز نہ کھیلنے کی خامی کے سبب کوئی بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ وہ 32 رنز بنا کر ہیراتھ کی گیند پر سٹمپڈ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رنگانا ہیرتھ آتے ہی حسب معمول پاکستانی بیٹسمینوں کے اعصاب پر سوار ہوگئے۔

اس سے قبل پاکستانی بولرز نے سری لنکا کی دوسری اننگز 282 رنز پر تمام کردی ۔میزبان ٹیم گذشتہ روز کے سکور میں آٹھ وکٹوں کے عوض صرف 105 رنز کا اضافہ کر سکی۔

سعید اجمل نے سنگاکارا اور جے وردھنے کو صرف سات گیندوں پر آؤٹ کردیا۔

سنگاکارا انسٹھ رنز بنا کر سلی پوائنٹ پر اظہرعلی کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

سنگاکارا اور جے وردھنے نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی آخری شراکت میں107 رنز بنائے۔یہ ان کی مجموعی طور پر 19ویں سنچری پارٹنرشپ تھی۔

جے وردھنے اپنی آخری ٹیسٹ اننگز میں پچاسویں نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد احمد شہزاد کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

جے وردھنے نے149 ٹیسٹ میچز پر مشتمل شاندار کریئر کا اختتام 34 سنچریوں اور 50 نصف سنچریوں کی مدد سے گیارہ ہزار آٹھ سو چودہ رنز پر کیا۔

سعید اجمل نے تیسری وکٹ تھری مانے کو بولڈ کر کے حاصل کی تو دوسری جانب وہاب ریاض نے ڈک ویلا۔ پریرا اور ہیراتھ کی وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔

کپتان میتھیوز نے اپنے سامنے سات وکٹیں گرتے دیکھیں اور وہ تنتالیس رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

اسی بارے میں