کولمبو: پاکستان ٹیسٹ میچ اور سیریز دونوں ہار گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پہلی اننگز میں نو وکٹیں لینے والے رنگنا ہیراتھ کے خلاف پاکستانی بلے باز بالکل نہیں چل سکے اور انھوں نے دوسری اننگز میں بھی پانچ وکٹیں لیں

کولمبو ٹیسٹ میں سری لنکا نے پاکستان کو 105 رنز سے ہرا کر دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز دو صفر سے جیت لی ہے۔

پاکستانی بلے بازی ایک مرتبہ پھر ناکام ہوگئی اور چوتھی اننگز میں 271 رنز کے تعاقب میں 165 رنز بنا کر آوٹ ہوگئی۔

پہلی اننگز میں نو وکٹیں لینے والے رنگنا ہیراتھ کے خلاف پاکستانی بلے باز بالکل نہیں چل سکے اور انھوں نے دوسری اننگز میں بھی پانچ وکٹیں لیں۔

وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد پاکستان کے کامیاب ترین بلے باز تھے جنھوں نے 55 رنز سکور کیے۔ اسد شفیق نے 32 رن بنائے اور ان کے علاوہ کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی جم کے نہ کھیل سکا۔

اوپنر خرم منظور اور احمد شہزاد نے بالترتیب 10 اور 8 رنز بنائے۔

تجربہ کار مڈل آرڈر میں کپتان مصباح الحق نے 3، یونس خان نے 8 جبکہ اظہر علی نے 10 رنز بنائے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

فاسٹ بولر جنید خان دھمیکا پرساد کا باؤنسر چہرے پر لگنے کے بعد ڈریسنگ روم میں اپنا توازن کھو بیٹھے اور انھیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کے ٹیسٹ ہوئے۔ جنید خان بیٹنگ کرنے آج میدان میں نہیں اترے۔

اس ٹیسٹ میچ کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ یہ مہیلا جے وردھنے کا آخری ٹیسٹ میچ تھا۔

تیسرے روز کے اختتام پر سری لنکا نے دو وکٹوں کے نقصان پر 177 رنز بنا رکھے تھے اور سری لنکن بیٹنگ کی سب سے قابل اعتماد جوڑی آخری بار کسی ٹیسٹ اننگز میں یکجا تھی۔ جے وردھنے اور سنگاکارا نے اپنی انیس ویں سنچری پارٹنرشپ مکمل کی۔ دونوں کھلاڑی نصف سنچریاں بنا کر آؤٹ ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس ٹیسٹ میچ کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ یہ مہیلا جے وردھنے کا آخری ٹیسٹ میچ تھا

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ چھ ہزار نو سو بیس رنز بنانے والی جوڑی سچن تندولکر اور راہول ڈراوڈ کی ہے جبکہ اسی بھارتی جوڑی نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ بیس سنچری پارٹنرشپس بھی قائم کی ہیں۔

تیسرے روز کی صبح پاکستان کی بیٹنگ کو مشکلات سے نکالنے والے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد رہے جنھوں نے 103 رنز بنائے۔ یہ سرفراز احمد کی اور پاکستان کے کسی بھی وکٹ کیپر بیٹسمین کی سری لنکا میں پہلی ٹیسٹ سنچری تھی۔ یہ پانچ سال میں پاکستانی وکٹ کیپر کی پہلی ٹیسٹ سنچری بھی ہے۔

دوسری جانب سری لنکا کے بولر رنگنا ہیراتھ نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 9 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بائیں ہاتھ کے کسی بولر نے ایک اننگز میں نو وکٹیں حاصل کی ہیں ۔اس سے قبل انگلینڈ کے جانی برگس نے جنوبی افریقہ کےخلاف اٹھارہ سی نواسی کے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کی ایک اننگز میں آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

سری لنکا کے خلاف پانچ سال میں پاکستان تیسری مرتبہ ٹیسٹ سیریز ہارا ہے۔

پاکستانی ٹیم مصباح الحق کی قیادت میں انگلینڈ کے خلاف کلین سویپ کے بعد سے ایک بھی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکی ہے۔ اس دوران اس نے تین سیریز برابر کھیلی ہیں اور دو میں اسے شکست ہوئی ہے۔

اسی بارے میں