ہاشم خان بابائے سکواش تھے: قمر زمان

Image caption میں اس دن اپنا بڑھاپا تسلیم کروں گا، جس دن سکواش کھیلنا میرے بس میں نہ رہے:ہاشم خان

ہاشم خان سے پہلی ملاقات سنہ 2006 میں اس وقت پر ہوئی جب وہ امریکہ سے سکواش پر بننے والی ایک ڈاکومینٹری کے لیے لندن آئے۔ اس وقت ان کی عمر 92 برس کے لگ بھگ تھی لیکن اس عمر میں بھی وہ باقاعدگی سے سکواش کھیلتے تھے۔

اس سوال پر کہ سکواش جیسا سخت جان کھیل، کھیلنے سے تو تگڑے نوجوان بھی کتراتے ہیں، عمر کے اس حصےمیں آپ کیسے کھیل لیتے ہیں؟ مسکرا کر ہاتھ میں پکڑے ہوۓ سکواش ریکٹ کو دیکھتے ہوۓ بولے، ’میں اس دن اپنا بڑھاپا تسلیم کروں گا، جس دن سکواش کھیلنا میرے بس میں نہ رہے۔‘

خیال رہے کہ سکواش کے کھیل میں دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے پاکستانی کھلاڑی ہاشم خان پیر کی شب امریکہ میں انتقال کر گئے تھے۔

ہاشم خان ورلڈ سکواش میں پاکستان کی تنزلی پر کھلے عام تو شاید ہی بولے ہوں لیکن ایک بار ان کے نواسے عامر خان کے ہمراہ جب ان سے ملا تو اس سوال پر انھوں نے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ ’ہم صرف ٹائٹل کے لیے کھیلتے تھے، دن رات کھیلتے تھے اور اسی لیے جیتتے بھی تھے۔

جنون کی حد تک سکواش کا لگاؤ رکھنے والے ہاشم خان کے خاندان کے لوگوں کے شدید علالت کے باوجود 90 برس کی عمر تک سکواش مقابلوں میں حصہ لیتے رہے۔

سکواش کے سابق عالمی چیمپیئن قمر زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سات سال پہلے جب ہاشم خان پاکستان آئے تو کہا کہ ’قمر میرے سارے جسم میں درد ہو رہا ہے کسی نوجوان کھلاڑی کو بلاؤ کہ اس کے ساتھ سکواش کھیلی جائے۔‘

قمر زمان کے بقول جن لوگوں کو ہاشم خان کا کھیل دیکھنے یا ان کے ساتھ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا ہو وہ کبھی ان کا دم خم اور سٹیمنا نہیں بھول سکیں گے، ’ہاشم خان، با باۓ سکواش تھے۔‘

’پشاور سے اسلام آباد جاتے ہوئے راستے میں انھوں نے مجھے بتایا کہ چند دوستوں کے ہمراہ انھوں نے سائیکل پر پشاور کا سفر کیا اور وہاں پہنچنے کے بعد جب اسلام آباد میں مزہ نہ آیا تو سائیکل پر ہی سوار ہو کر مری چلے گئے۔‘

قمر زمان اپنے ریٹائرمنٹ کا قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ ریٹائرمنٹ والے دن ہاشم خان ان کے پاس آ کر پوچھنے لگے، یار اتنا جلدی کیوں ریٹائر ہو رہے ہو؟ ’میں نے کہا، لا لا (بھائی) میں 37 برس کا ہوگیا ہوں تو اب ریٹائر ہونا ہی بہتر ہے‘ تو ہاشم خان نے جواباً کہا کہ ’یار میں نے تو 37 سال کی عمر میں اپنا پہلا میچ جیتا تھا اور تم اس عمر میں ریٹائر ہو رہے ہو۔‘

قمر زمان نے انھیں جواب دیا کہ ’آپ تو ہاشم خان ہیں میں تو ہاشم خان نہیں۔‘

سکواش سے تو انھیں جنون کی حد تک لگاؤ تھا ہی لیکن ذاتی زندگی میں ہاشم خان ایک سادہ اور مخلص انسان تھے۔

قمر زمان کا کہنا تھا کہ وہ پشاور آ کر گاڑی کی بجاۓ پیدل سفر کرنے کو ترجیح دیتے تھے اور اپنے گاؤں نوی کلی سے اکثر پشاور کینٹ کے گرین ہوٹل تک پیدل سفر کرتے۔

’ایک دفعہ کالے رنگ کی شلوار قمیض پہنی اور کاندھے پر چادر لٹکائے پیدل پشاور کینٹ روانہ ہو گئے، انھیں ایسے دیکھ کر کسی کو احساس نہیں ہوتا تھا کہ یہ سکواش کے نامور کھلاڑی ہاشم خان ہیں۔‘

اسی بارے میں