موجودہ کرکٹ تو سرکس معلوم ہوتا ہے: جمشید مارکر

Image caption ’کرکٹ جنٹلمین کا کھیل تھا اور یہ کھلاڑی ملک کے لیے کھیلتے تھے انھیں صرف 150 روپے میچ فیس ملا کرتی تھی‘

پاکستان میں جب کرکٹ کمنٹری شروع ہوئی تو عمر قریشی کے ساتھ ہوا کے دوش پر جو پہلی آواز گونجی وہ جمشید مارکر کی تھی۔

مائیکروفون سے ان کا یہ تعلق اس وقت تک قائم رہا جب تک انھیں حکومتِ پاکستان نے سفارت کاری کے لیے منتخب نہ کر لیا۔

جمشید مارکر کی عمر 92 برس ہو چکی ہے لیکن اس عمر میں بھی وہ بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری پر وہ مختلف اداروں میں جا کر لیکچر دیتے ہیں اور ان موضوعات کئی کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

کرکٹ ان کی پہلی محبت ہے جو ان کی یادوں کا خزانہ ہے۔ ان یادوں میں شریک ہونے کے لیے میں نے ان سے وقت مانگا تو خوشی خوشی دے دیا اور پھر جب گفتگو شروع ہوئی تو وقت کی قید انھیں یاد نہ رہی اور وہ ماضی میں کھوگئے۔

’ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل رشید الدین احمد میرے سکول کے استاد بھی تھے۔ انھی کے کہنے پر میں نے کرکٹ کمنٹری شروع کی کیونکہ عمرقریشی کے علاوہ اس وقت جو دوسرے لوگ کمنٹری کرتے تھے وہ انگریز تھے اور ان سے لوگوں کو بہت شکایتیں رہتی تھیں۔ میں نے رشید صاحب سے کہا کہ یہ کام کیسے ہوگا تو انھوں نے آسان انداز میں اس کا طریقہ یہ بتایا کہ تم یہ سوچو کہ تم میچ دیکھ رہے ہو اور تمہارے برابر میں تمہارا ایک عزیز ترین دوست بیٹھا ہے جو نابینا ہے اور تمھیں اسے یہ بتانا ہے کہ میدان میں کیا ہورہا ہے۔‘

جمشید مارکر کہتے ہیں کہ عمرقریشی سے ان کی بڑی دوستی تھی اور کمنٹری کے دوران ان کے ساتھ کافی ذہنی آہنگی پیدا ہوگئی تھی۔

’سارا دن لائیو کمنٹری آسان کام نہ تھا لہٰذا ہم سننے والوں کی دلچسپی کے لیے اپنی حسِ مزاح سے بھی کام لیتے تھے جو انھیں پسند آتی تھی۔ ہر روز کھیل کے بعد میں عمرقریشی اور عبدالحفیظ کاردار کے ساتھ گھر آتا ہم اور ریکارڈ کی گئی کمنٹری کو سنا کرتے تھے اور غلطیوں کی نشاندہی کرکے کوشش کرتےتھے کہ آئندہ انھیں نہ دہرایا جائے۔‘

جمشید مارکر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انھیں حنیف محمد کی وکٹ گرنے سے بہت ڈر لگتا تھا۔

’مجھے مقصود احمد کی جارحانہ بیٹنگ بہت پسند تھی۔ امتیاز احمد میرے پسندیدہ بیٹسمین تھے لیکن کمنٹری کے دوران ہم کانپ جاتے تھے کہ کہیں حنیف محمد جلد آؤٹ نہ ہوجائیں کیونکہ وہ اس وقت پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی امید ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب کرکٹ جنٹلمین کا کھیل تھا اور یہ کھلاڑی ملک کے لیے کھیلتے تھے انھیں صرف 150 روپے میچ فیس ملا کرتی تھی۔‘

میں نے جمشید مارکر سے پوچھا کہ آپ نے کھلاڑیوں کی فیس تو بتا دی یہ بھی تو بتائیے کہ کمنٹیٹروں کو کتنے پیسے ملا کرتے تھے تو ان کا مختصر جواب کچھ یوں تھا: ’ہمیں بھی 150 روپے ہی ملتے تھے ایک میچ کے۔‘

Image caption ہماری حکومت نے میری پوسٹنگ انھی ملکوں میں کی جہاں کرکٹ کا نام ونشان نہیں تھا: جمشید مارکر

جمشید مارکر کہتے ہیں کہ جب میچ شروع ہوتا تھا تو وہ اپنا کاروبار چھوڑ کر کرکٹ کے ہی ہوجاتے تھے۔ کرکٹروں سے ان کی ذاتی دوستیاں بھی رہیں۔

’میں ذاتی طور پر عبدالحفیظ کاردار کا بہت بڑا پرستار ہوں۔ انھوں نے پاکستانی کرکٹروں کے معیارِ زندگی بلند کرنے کا پہلا قدم اٹھایا کہ جن ہوٹلوں میں غیرملکی ٹیم ٹھہرے گی پاکستانی کرکٹر بھی وہیں ٹھہریں گے اور ٹرین میں بھی ان کے لیے فرسٹ کلاس مختص کرائی۔‘

جمشید مارکر کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ 19 ممالک میں سفیر اور ہائی کمشنر کی ذمہ داری نبھانے والے سفارت کار ہیں لیکن وہ ہنستے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ان میں کوئی بھی کرکٹ کھیلنے والا ملک نہیں تھا۔

’میں 30 سال تک مختلف ملکوں میں سفیر رہا لیکن ہماری حکومت نے میری پوسٹنگ انھی ملکوں میں کی جہاں کرکٹ کا نام ونشان نہیں تھا۔ اس کے باوجود میں شوق سے مجبور ہوکر ریڈیو پر کمنٹری سننے کی کوشش کرتا۔ ایک مرتبہ رومانیہ میں، میں نے عمرقریشی کی ریڈیو پر آواز سنی تو بہت خوشی ہوئی لیکن کبھی ریڈیو پر کمنٹری آ جاتی کبھی نہیں تو پھر میں نے سوچا کہ کرکٹ سے اسی طرح پرہیز کر لیا جائے جیسے کوئی شخص سگریٹ نوشی سے کرتا ہے۔‘

موجودہ کرکٹ دیکھتے ہیں؟ جمشید مارکر کا جواب خاصا دلچسپ تھا۔

’اگر گلی ڈنڈا دیکھنا ہو تو ضرور دیکھوں گا۔ میں تو پرانے وقتوں کا آدمی ہوں۔ مجھے تو آج کل کے یہ رنگ برنگے لباس بھی بالکل پسند نہیں ہیں۔ یہ تو بالکل سرکس معلوم ہوتا ہے۔‘

جمشید مارکر موسیقی کے بہت بڑے قدردان ہیں۔ان کی ذاتی لائبریری میں کتابوں کے خزانے کے ساتھ ساتھ کیسٹوں، سی ڈیز اور ایل پیز کی بھی بڑی تعداد موجود ہے، لیکن ان آوازوں میں ان کی کرکٹ کمنٹری محفوظ نہیں ہے جو ایک طویل عرصے تک کرکٹ کی دنیا میں گونجتی رہی ہے۔

’میرے پاس میری کمنٹری محفوظ نہیں ہے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ ریڈیو پاکستان کے پاس یہ کمنٹری موجود ہے لیکن جب میں نے معلوم کیا تو وہاں سے بھی جواب نفی میں ملا۔‘

اسی بارے میں