یہ پاکستانی ٹیم ہے، ہار جیت میں بھی بدل دیتی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صہیب مقصود نے اپنے کریئر کی بہترین اننگز کھیلتے ہوئے تہتر گیندوں پر نوچوکوں کی مدد سے نواسی رنز سکور کیے

فواد عالم اور صہیب مقصود کی ہمت نہ ہارنے والی بیٹنگ نے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں سری لنکا سے فتح چھین لی۔

یہ دونوں کریز پر اس وقت اکٹھے ہوئے تھے جب پاکستان کی پانچ وکٹیں صرف 106 رنز پر گرچکی تھیں لیکن اس کے بعد ان دونوں سری لنکن بولنگ کو تگنی کا ناچ نچادیا۔

ان دونوں نے چھٹی وکٹ کی شراکت میں 147 رنز کا اضافہ کیا جو ون ڈے انٹرنیشنل میں اس وکٹ کے لیے پاکستان کا نیا ریکارڈ ہے لیکن سب سے اہم بات یہ کہ ان دونوں کی شاندار بیٹنگ نے ممکنہ شکست کو جیت میں بدل دیا۔

فواد عالم 62 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کو جیت کے لیے 18 گیندوں پر 22 رنز درکار تھے اس مرحلے پر صہیب مقصود اور شاہد آفریدی نے ایک گیند قبل جیت پر مہر تصدیق ثبت کردی۔

صہیب مقصود نے اپنے کریئر کی بہترین اننگز کھیلتے ہوئے 73 گیندوں پر نوچوکوں کی مدد سے 89 رنز سکور کیے اور شاہد آفریدی نے 14 رنز بنائے۔

یہ ان کا 379 واں ون ڈے انٹرنیشنل بھی تھا اس طرح وہ سب سے زیادہ ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے پاکستانی کرکٹر بھی بن گئے ہیں۔

بارش کی چھیڑخانی نے ہمبنٹوٹا کے اس میچ کو 45 اوورز تک محدود کر دیا لیکن پانچ اوورز کی کٹوتی کے باوجود پاکستانی بولرز کی انتہائی غیرموثر بولنگ نے سری لنکا کو سات وکٹوں پر 275 رنز بنوا دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فواد عالم باسٹھ رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کو جیت کے لیے اٹھارہ گیندوں پر بائیس رنز درکار تھے

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت پاکستان کو جیتنے کے لیے 276 نہیں بلکہ 275 رنز ہی کا ہدف دیا گیا۔

سری لنکا کی اننگز کی خاص بات کپتان اینجیلو میتھیوز کی عمدہ بیٹنگ تھی جنہوں نے نو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے کریئر بیسٹ 89 رنز سکور کیے اور مہیلا جے وردھنے کے ساتھ پانچویں وکٹ کی شراکت میں ایک ایسے وقت میں 116 رنز کا اضافہ کیا جب میزبان ٹیم کی چار وکٹیں 18ویں اوور میں صرف 75 رنز پر گرچکی تھیں۔

میتھیوز جب سے کپتان بنے ہیں ان کی بیٹنگ حریف بولرز کے قابو سے باہر نکل چکی ہے۔

مہیلاجے وردھنے نے جو اب عالمی کپ پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں 63 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔

پاکستانی بولنگ سعید اجمل کے بغیر میدان میں اتری جو اپنے بولنگ ایکشن کی درستگی کے لیے آسٹریلیا روانہ چکے ہیں۔

طویل قامت فاسٹ بولر محمد عرفان نے ٹیم میں واپسی پر تلکارتنے دلشن اور چندی مل کی وکٹیں حاصل کیں ۔وہاب ریاض نے رنز کی نصف سنچری کرا کر تین وکٹیں اپنے نام کیں لیکن جنید خان اور شاہد آفریدی کی’ فراخدلی نے سری لنکا کو آخری دس اوورز میں 105 رنز بنانے کا پورا پورا موقع دیا۔

آفریدی نے نو اوورز میں 57 رنز دیے جن میں سے نویں اوور میں بننے والے 17رنز بھی شامل تھے۔

آفریدی نے آخری گیارہ ون ڈے میں دس وکٹیں حاصل کی ہیں لیکن ان گیارہ میں سے آخری چار میچز میں وہ ایک بھی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

جنید خان نے تو حد ہی کردی انہوں نے نو اوورز میں 75 رنز دے ڈالے ان کے آخری دو اوورز میں سات چوکے لگے۔

پاکستانی بیٹنگ آئی تو ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں کی کارکردگی دیکھ کر یہ محسوس نہیں ہورہا تھا کہ ٹیم مقابلہ کررہی ہے۔

23ویں اوور میں پانچ وکٹیں گنواکر وہ جیت سے بہت دور ہوچکی تھی ۔

محمد حفیظ اور ایک سال بعد ون ڈے ٹیم میں واپس آنے والے یونس خان کی وکٹیں میتھیوز نے قابو میں کیں۔

یونس خان رائے عامہ کے دباؤ میں دوبارہ ون ڈے ٹیم میں تو آگئے ہیں لیکن بیٹنگ لائن کا توازن نہیں رہا ہے۔

تشارا پریرا نے عمراکمل اور احمد شہزاد کو آؤٹ کیا تو کپتان مصباح الحق کو بازی ہاتھ سے نکلتی دکھائی دی۔

وہ خود رنگانا ہیرتھ کو اس دورے میں چوتھی مرتبہ وکٹ تھماکر پویلین کو چل پڑے لیکن اس کے بعد مشن ناممکن کو صہیب مقصود اور فواد عالم نے ممکن بنادیا۔

اسی بارے میں