کیمرون کے فٹبالر سر پر چوٹ لگنے سے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ PBS
Image caption الجزائر کی وزارتِ داخلہ نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے

کیمرون کی فٹبال ٹیم کے رکن ایلبرٹ ایبوسی الجزائر میں ایک میچ کے بعد تماشائیوں کی جانب سے پھینکی جانے والی شے کے سر پر لگنے سے انتقال کر گئے ہیں۔

چوبیس سالہ ایبوسی کو جب حادثے کے بعد الجزائر کے دارالحکومت کے قریب ایک ہسپتال پہنچایا گیا تو وہ دم توڑ چکے تھے۔

الجیرین لیگ کے سلسلے میں ہونے والے اس میچ میں ایبوسی جے ایس کبیلی نامی کلب کے خلاف الجزائری دارالحکومت کے مقامی کلب یو ایس ایم ایلگلر کی جانب سے کھیل رہے تھے۔

انھوں نے میچ میں مہمان کلب کے خلاف ایک گول بھی کیا تھا، تاہم میزبان کلب یہ میچ دو کے مقابلے میں ایک گول سے ہار گیا۔

میچ کے اختتام پر جے ایس کبیلی کے حامی شائقین نے اپنے کلب کی شکست پر برہم ہو کر میدان سے باہر جاتے ہوئے کھلاڑیوں پر مخلتف چیزیں پھینکنا شروع کر دیں جن میں سے ایک چیز ایلبرٹ ایبوسی کے سر میں جا لگی۔

الجزائر کی وزارتِ داخلہ نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

یاد رہے کہ ایبوسی اس سال کی الجزیریئن لیگ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی تھے اور وہ اب تک ٹورنامنٹ میں 17 گول کر چکے تھے۔

Image caption ایبوسی کے کلب کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایبوسی کی موت سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی ہے

ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ شائقین کے غل غپاڑے کے دوران ایبوسی کو کیا چیز لگی۔ تاہم الجزائر کے ایک اخبار کا کہنا ہے کہ مقامی شائقین اپنے کلب کی شکست کے بعد کھلاڑیوں کی جانب پتھر پھینک رہے تھے۔

ایبوسی کے کلب کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایبوسی کی موت سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی ہے۔

مخالف ٹیم، یو ایس ایم ایلگر نے ایبوسی کی موت کو انتہائی بری خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خبر ان کے لیے انتہائی دکھ کا سبب بنی ہے۔

کلب کا مزید کہنا تھا کہ ’ان دکھ کے لمحات میں یو ایس ایلگر اور اس کے ارکان کی جانب سے ہم مرحوم کے خاندان اور جے ایس کبیلی کلب سے انتہائی دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔‘

اس حادثے کے بعد الجیریئن لیگ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے اور مذکورہ سٹیڈیم کو تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔

لیگ کے صدر خود میدان میں موجود تھے۔ انھوں نے ایبوس کی ناگہانی موت کو قومی کھیل کے لیے ایک بڑا حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ایبوس نے ہزارہا الجزائری عوام کے دل جیت لیے تھے اور ایبوس کے اپنے ساتھی اور مخالف کھلاڑی ان کی بہت عزت کرتے تھے۔‘

اسی بارے میں