310 کا دباؤ ، پہلے بولرز ڈوبے پھر بیٹسمین بہہ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان نے پہلا میچ چار وکٹوں سے جیتا تھا

سری لنکا نے شکست کا حساب تین روز میں ہی بے باق کردیا اور اس کی 77 رنز کی جیت کے ساتھ ہی تین میچوں کی سیریز بھی برابر ہوگئی۔

سیریز کا فیصلہ اب سنیچر کو دمبولا میں ہونے والے آخری ون ڈے میں ہوگا۔

ہمبنٹوٹا کے راجا پاکسے اسٹیڈیم میں پاکستان نے پہلا ون ڈے 275 کا ہدف عبور کر کے جیتا تھا لیکن اسی میدان میں اس سے311 رنز نہ بن سکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سری لنکا میں کوئی بھی ٹیم 300 یا زائد رنز کا ہدف عبور کرکے ون ڈے جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

پاکستانی ٹیم نے غیرمعیاری بولنگ اور وکٹ کیپنگ کے ذریعے سری لنکا کو اس کی توقع سے زیادہ رنز بنوا دیے اور جب بیٹسمینوں کی باری آئی تو کوئی بھی بیٹسمین بڑی اننگز کھیل کر نیّا پار لگانے کے لیے تیار نظر نہ آیا۔

یونس خان کی جگہ ٹیم میں شامل کیے گئے شرجیل خان نے پویلین جانے میں جلدی دکھائی جس کے بعد محمد حفیظ اور احمد شہزاد کی 96 رنز کی شراکت نے پاکستانی ٹیم کو میچ میں موجود رکھا لیکن 33 رنز پر تین وکٹیں گر جانے کے نتیجے میں توازن میزبان ٹیم کے حق میں ہوگیا اور اس کے بعد پاکستانی ٹیم کسی بھی موقع پر نہ سنبھل سکی۔

محمد حفیظ اور احمد شہزاد نصف سنچریاں مکمل کرنے کے بعد آؤٹ ہوئے لیکن عمراکمل کے لیے وکٹ کیپنگ کے بعد بیٹنگ میں بھی مایوسی ہی لکھی ہوئی تھی وہ صرف ایک رن بناکر دلشن کا شکار ہوئے۔

رنگانا ہیرتھ ٹیسٹ کھیلیں یا ون ڈے وہ پاکستانی بیٹسمینوں کے اعصاب پر سوار ہیں۔

انھوں نے بیٹنگ پاور پلے میں مصباح الحق اور صہیب مقصود کی وکٹیں حاصل کر کے پاکستانی اننگز کو اس کے منطقی انجام پر پہنچا دیا۔

تشارا پریرا کو بھی اس مرحلے پر صرف چھ گیندوں پر تین وکٹیں مل گئیں اور جب سری لنکا کے اس میچ کے سب سے مہنگے بولر لستھ ملنگا نے محمد عرفان کو بولڈ کیا تو ہدف دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

اس سے قبل سری لنکن ٹیم اپنے کپتان اینجیلو میتھیوز، جے وردھنے اور تشارا پریرا کے ’لاٹھی چارج‘ کے سبب 310 کا سکور کرنے میں کامیاب ہوئی حالانکہ ایک موقعے پر وہ تین وکٹیں صرف 62 رنز پر گنوا چکی تھی۔

میتھیوز بھی مصباح الحق کی طرح ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی پہلی سنچری کے شدت سے منتظر ہیں۔گذشتہ میچ میں وہ 89 رنز پر آؤٹ ہوئے تھے اس بار سنچری نہ ہونے کی کسک زیادہ تھی کیونکہ وہ صرف سات رنز کی کمی سے تین ہندسوں کی پہلی ون ڈے اننگز سے محروم ہوئے۔

تلکارتنے دلشن سنگاکارا اور تھرنگا کی وکٹیں گرنے کے بعد موجودہ اور سابق کپتان کی 122 رنز کی قیمتی شراکت سری لنکا کا سکور 184 رنز تک لے گئی۔

مہیلا جے وردھنے 66 رنز بناکر حفیظ کی گیند پر بولڈ ہوئے۔

جے وردھنے نے آخری ون ڈے سنچری گذشتہ جون میں بھارت کے خلاف کنگسٹن میں بنائی تھی جس کے بعد سے وہ 24 اننگز میں چار نصف سنچریاں ہی سکور کر سکے ہیں۔

محمد حفیظ نے پرسنا اور پریانجن کی وکٹیں بھی حاصل کر ڈالیں لیکن پاکستانی بولنگ اینجیلو میتھیوز کے بلے کو خاموش نہ رکھ سکی جو کپتان بننے کے بعد اپنے کریئر کی بہترین فارم میں دکھائی دے رہے ہیں۔

انھوں نے 22ویں نصف سنچری کے ساتھ ساتھ ون ڈے میں اپنے تین ہزار رنز بھی مکمل کرلیے۔

میتھیوز اور تشارا پریرا نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں 87 اہم رنز بنائے۔

تشارا پریرا نے آخری اوورز میں پاکستانی بولنگ کی بڑی درگت بنائی اور صرف 36 گیندوں پر 65 رنز سکور کیے جس میں چار چھکے اور پانچ چوکے شامل تھے۔

پاکستانی بولرز آخری چھ اوورز میں 80 رنز دینے کے خطاوار تھے ۔

جنید خان پچھلے میچ کی طرح اس بار بھی بیٹسمینوں کے لیے ترنوالہ ثابت ہوئے۔ محمد عرفان کا رعب دبدبہ بھی نہ تھا۔ وہاب ریاض نے چار وکٹیں حاصل کیں لیکن آخری اووروں میں وہ بھی رنز کے سیلاب میں بہہ گئے۔

شاہد آفریدی کے لیے یہ میچ بھی وکٹ سے خالی گیا۔ وہ آخری پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

اسی بارے میں