’آئی سی سی دیر سے جاگی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعید اجمل کا متبادل بولر تیار کرنے کی فوری ضرورت ہے: توصیف احمد

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آف سپنر سعید اجمل کا بولنگ ایکشن مشکوک قرار دیے جانے کے معاملے نے بین الاقوامی کرکٹ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سابق کپتان رمیز راجہ اور سابق آف سپنر توصیف احمد اسے ’بے وقت کی راگنی اور آئی سی سی کا دیر سے جاگنا‘ قرار دیتے ہیں جبکہ اپنے وقت کے مایہ ناز آف سپنر اور’ دوسرا‘ کے موجد ثقلین مشتاق کے خیال میں اگر بولر قوانین کے مطابق بولنگ کرے تو اسے کوئی بھی نہ روکے۔

رمیز راجہ نے دمبولا سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’یہ ایک نئی ہوا چل پڑی ہے۔ اگر آئی سی سی یہ سوچ رہی ہے کہ مشکوک بولنگ ایکشن والے تمام بولروں کو کھیل سے نکال دیا جائے یا ان پر سخت دباؤ رکھا جائے تو یہ کام اسے بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا، وہ بڑی دیر سے جاگی ہے۔‘

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ’سعید اجمل کے بولنگ ایکشن پر اب اعتراض کیا جانا بالکل ایسے ہی ہے کہ کوئی طالب علم فرسٹ ڈویژن میں امتحان پاس کرلے اور اسے اسی کلاس کا دوبارہ امتحان دینے کے لیے کہا جائے۔‘

رمیز راجہ کے خیال میں آئی سی سی کو اس معاملے کو دانش مندی کے ساتھ نمٹانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’آف سپنرز کی مخصوص گیند ’دوسرا‘ کے بارے میں قوانین میں رد و بدل کیا جانا چاہیے اور اگر عام گیند کے لیے 15 ڈگری کی حد مقرر ہے تو دوسرا کے لیے یہ حد 18 ڈگری کر دی جائے۔ اسی دوسرا کی وجہ سے آف سپن بولنگ میں خوب صورتی واپس آئی ہے ۔ ماضی میں آف سپن بولنگ بے رونق سمجھی جاتی تھی۔‘

رمیز راجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو بھی بولر مشکوک بولنگ ایکشن کی درستگی کے بعد کرکٹ میں واپس آئے اس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

سابق آف سپنر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ سعید اجمل کا بولنگ ایکشن پانچ سال قبل رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد سے وہ کسی اعتراض کے بغیر بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہے تھے اب اس مرحلے پر ان کے بولنگ ایکشن کو مشکوک کہنا زیادتی ہے۔

93 ٹیسٹ اور 55 ون ڈے وکٹیں حاصل کرنے والے توصیف احمد نے کہا کہ ’آج کل بولروں کے تواتر سے رپورٹ ہونے کی ایک بڑی وجہ ٹی ٹوئنٹی ہے جس میں بولرز آف سپن کرنے کے بجائے بہت زیادہ دوسرا کرتے ہیں اور اسی کوشش میں وہ 15 ڈگری کی حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مشتاق احمد کی ٹیم کے ساتھ دورے پر موجودگی سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ اکیڈمی میں رہ کر نئے بولروں پر کام کریں

توصیف احمد کا کہنا ہے کہ ’مشتاق احمد کی ٹیم کے ساتھ دورے پر موجودگی زیادہ ضروری نہیں ہے بلکہ انھیں اکیڈمی میں رہ کر نئے بولروں پر کام کرنا چاہیے۔ سعید اجمل کا متبادل بولر تیار کرنے کی فوری ضرورت ہے کیونکہ انھیں ڈومیسٹک کرکٹ میں جو بھی آف سپنر نظر آئے ہیں ان کے بولنگ ایکشن میں کچھ نہ کچھ خامی موجود ہے۔‘

ثقلین مشتاق کے خیال میں قوانین سب بولروں کے لیے یکساں ہیں۔

ثقلین نے لندن سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشکوک بولنگ ایکشن کے بارے میں آئی سی سی پہلے بھی سرگرم رہی ہے اور یہ نیا معاملہ نہیں ہے: ’اگر کوئی بولر 15 ڈگری کی حد میں رہ کر بولنگ کر رہا ہے تو کوئی بھی اسے نہیں روکے گا۔ سعید اجمل سمیت دوسرے بولر جو رپورٹ ہوئے ہیں وہ 15 ڈگری کی حد سے اوپر گئے ہوں گے جبھی ان کے ایکشن پر اعتراض کیا گیا ہے۔‘

ثقلین مشتاق نے کہا کہ بولروں کے بہت زیادہ بولنگ کرنے سے اس کے پٹھے متاثر ہوں تو پھر تکنیکی مسائل جنم لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں کوچنگ اسٹاف کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس بولر کو مشکل سے نکالے۔

اسی بارے میں